اقوام متحدہ۔22مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی کے خلاف اتحاد اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدیم زہرآج بھی ہر معاشرے اور خطے میں موجود ہے۔شنہوا کے مطابق نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ نسل پرستی کی جڑیں نوآبادیاتی نظام، …
نسل پرستی کے خاتمے کے لیے اتحاد اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں ، سربراہ اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔22مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی کے خلاف اتحاد اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدیم زہرآج بھی ہر معاشرے اور خطے میں موجود ہے۔شنہوا کے مطابق نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ نسل پرستی کی جڑیں نوآبادیاتی نظام، غلامی اور جبر کے اثرات میں پیوست ہیں، جو آج بھی معاشی، سماجی اور سیاسی ناہمواریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق امتیازی پالیسیوں اور رویوں کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ کئی تنازعات کو بھی جنم دے رہا ہے۔سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ جدید ڈیجیٹل ذرائع اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن بیانیے تیزی سے پھیل رہے ہیں، جو اکثر حقیقی دنیا میں تشدد اور بدسلوکی کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل اتحاد اور عملی اقدامات ہیں، اور تمام حکومتوں، اداروں، کاروباری حلقوں اور کمیونٹیز کو مل کر نسل پرستی کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہر انسان کے وقار، انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک کو نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق عالمی کنونشن پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے اور دربن اعلامیہ و پروگرام آف ایکشن کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے، جو اس سال اپنی 25ویں سالگرہ منا رہا ہے۔واضح رہے کہ نسلی امتیاز کے خاتمے کا عالمی دن 1966 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مقرر کیا تھا، جس کا مقصد دنیا بھر میں اس مسئلے کے خلاف شعور اجاگر کرنا اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔








