نسٹ کانووکیشن 2025 تقریبات کا اختتام، 5 ہزار 700 سے زائد فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں سالانہ کانووکیشن ویک 2025 اختتام پذیر ہوگیا ،جس میں مجموعی طور پر 5,736 طلباء و طالبات کو بیچلر، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔تقریب میں انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، کمپیوٹنگ و آئی ٹی، لائف سائنسز و میڈیسن، آرٹس و ہیومینیٹیز، نیچرل سائنسز، سوشل سائنسز اور بزنس و مینجمنٹ کے سات بنیادی شعبہ جات سے تعلق …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں سالانہ کانووکیشن ویک 2025 اختتام پذیر ہوگیا ،جس میں مجموعی طور پر 5,736 طلباء و طالبات کو بیچلر، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔تقریب میں انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، کمپیوٹنگ و آئی ٹی، لائف سائنسز و میڈیسن، آرٹس و ہیومینیٹیز، نیچرل سائنسز، سوشل سائنسز اور بزنس و مینجمنٹ کے سات بنیادی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے گریجویٹس نے اپنی اسناد حاصل کیں۔

کانووکیشن ویک کا افتتاح وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے بطور مہمانِ خصوصی کیا۔ انہوں نے ماسٹر کانووکیشن تقریب میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو تمغے عطاء کئے اور شرکاء سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی نے گریجویٹس، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نسٹ ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے جہاں کے فارغ التحصیل طلبہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے یہ موقع صرف تعلیم مکمل کرنے کا نہیں بلکہ اپنے ملک کی خدمت اور ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم ملک عطا ء کیا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے ترقی و خوشحالی کی راہ پر مزید آگے بڑھائیں۔ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ کانووکیشن صرف ایک تعلیمی سفر کا اختتام نہیں بلکہ امکانات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں نسٹ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور آج یہ ادارہ جدت، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کی نرسری بن چکا ہے۔

ڈاکٹر زاہد لطیف نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کو جو ڈگریاں دی جا رہی ہیں وہ صرف علمی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا اعلان بھی ہیں، یہ آپ سے تقاضا کرتی ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو اپنے، اپنے خاندان، معاشرے اور سب سے بڑھ کر اپنے وطن پاکستان کی بہتری کے لئے بروئے کار لائیں۔

مزید خبریں