اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے زیراہتمام ایک اہم پروگرام میں پبلک پالیسی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے امتزاج پر روشنی ڈالی گئی۔ پروگرام کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب جدید ٹیکنالوجی عوامی پالیسی سازی میں شامل ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ سیشن نسٹ کے سکول آف پبلک پالیسی اور جناح سکالرز پروگرام فار پبلک لیڈرشپ …
نسٹ کے زیراہتمام اہم پروگرام میں پبلک پالیسی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج پر سیشن کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے زیراہتمام ایک اہم پروگرام میں پبلک پالیسی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے امتزاج پر روشنی ڈالی گئی۔ پروگرام کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب جدید ٹیکنالوجی عوامی پالیسی سازی میں شامل ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ سیشن نسٹ کے سکول آف پبلک پالیسی اور جناح سکالرز پروگرام فار پبلک لیڈرشپ کے تحت منعقد کیا گیا جس میں ماہرین تعلیم، محققین اور طلبانے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے عوامی خدمات کو مؤثر، شفاف اور تیز تر بنایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر جدید رجحانات اور چیلنجز پر بھی گفتگو ہوئی اور یہ تجویز دی گئی کہ پالیسی سازوں کو اے آئی کی تربیت دی جائے تاکہ وہ مستقبل کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔








