نسٹ کے سینٹر آف ایکسیلنس فار پاپولیشن اینڈ ویل بیئنگ سٹڈیز اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے آبادی کے تعاون سے عالمی یوم آبادی 2025 کے حوالے سے پینل مباحثہ اور مقابلہ مضمون نویسی

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):نسٹ یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس فار پاپولیشن اینڈ ویل بیئنگ سٹڈیز نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے عالمی یوم آبادی 2025 منایا۔ اس موقع پر "ایک منصفانہ اور پرامید دنیا میں پسندیدہ تشکیلِ خاندان" کے لئے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے موضوع پر پینل مباحثہ اور مضمون نویسی کے مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں …

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):نسٹ یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس فار پاپولیشن اینڈ ویل بیئنگ سٹڈیز نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے عالمی یوم آبادی 2025 منایا۔ اس موقع پر "ایک منصفانہ اور پرامید دنیا میں پسندیدہ تشکیلِ خاندان” کے لئے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے موضوع پر پینل مباحثہ اور مضمون نویسی کے مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مختلف جامعات، حکومتی اداروں، غیر سرکاری اور بین الاقوامی تنظیموں کے ماہرین نے شرکت کی۔یو این ایف پی اے کی نائب نمائندہ برائے پاکستان، مس لتیکا مسکی پراڈھن نے آبادی کے بڑھتے دبائو، کم عمری کی شادی اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق چیلنجز کو اجاگر کیا۔

نسٹ کی ڈائریکٹر مارکومز ماریہ قادری نے نوجوانوں کی خود اختیاری اور خاندانی فیصلوں کے موضوع پر گفتگو کی جبکہ ڈاکٹر دائود منیر نے پالیسی اور قانون سازی کے تناظر میں خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر ظفر محمود نے نوجوانوں کے معاشی، سماجی اور سیاسی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اگر سازگار ماحول فراہم کرے تو آبادی کو اثاثہ میں بدلا جا سکتا ہے۔ سی ای پی ڈبلیو ایس (CePwS) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل عباس نے خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی اکائی سماجی اقدار اور ثقافت کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔پینل میں اس تاثر کی نفی کی گئی کہ تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی صرف خواتین کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے والد کے کردار کو نیا رخ دیتے ہوئے کہا کہ مردوں کی جذباتی اور عملی شمولیت سے نہ صرف خواتین کو سہارا ملتا ہے بلکہ بچوں کی بہتر پرورش بھی ممکن ہوتی ہے۔تقریب کا اختتام مضمون نویسی کے مقابلہ کے نتائج اور یادگاری تحائف کی تقسیم پر ہوا۔