اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد میں ’’خودکشی پر خاموشی توڑنا‘‘کے عنوان سے ایک ذہنی صحت سے متعلق آگاہی نشست منعقد کی گئی ،جس کا مقصد خودکشی کے رجحانات کی بروقت نشاندہی اور ایسے افراد کی محفوظ انداز میں مدد کے طریقوں پر روشنی ڈالنا تھا جو خودکشی کے خیالات کا شکار ہوں۔ نمل سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ نشست ’’مل کر …
نمل میں ’’خودکشی پر خاموشی توڑنا‘‘کے عنوان سے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی نشست کا انعقاد
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد میں ’’خودکشی پر خاموشی توڑنا‘‘کے عنوان سے ایک ذہنی صحت سے متعلق آگاہی نشست منعقد کی گئی ،جس کا مقصد خودکشی کے رجحانات کی بروقت نشاندہی اور ایسے افراد کی محفوظ انداز میں مدد کے طریقوں پر روشنی ڈالنا تھا جو خودکشی کے خیالات کا شکار ہوں۔
نمل سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ نشست ’’مل کر آؤ بات کریں‘‘ ذہنی صحت مہم کے تحت منعقد کی گئی جسے میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن اور دی برٹش ایشین ٹرسٹ کی معاونت حاصل تھی جبکہ اس کا انعقاد نمل شعبہ نفسیات اور پراجیکٹ سوسائیڈ کے اشتراک سے کیا گیا۔اس نشست میں طلبہ نے کھل کر اس بات پر گفتگو کی کہ کس طرح جذباتی تکلیف اکثر کلاس رومز، ہاسٹلز اور سماجی حلقوں میں نظر انداز ہو جاتی ہے اور یہ کہ دوست اور ساتھی بروقت ذہنی دباؤ کی نشاندہی اور متاثرہ افراد کو مناسب مدد کی جانب رہنمائی میں کس طرح اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ماہر نفسیات اور پبلک ہیلتھ پروفیشنل ڈاکٹر شیراز اکبر نے بتایا کہ خودکشی عموماً کوئی اچانک عمل نہیں ہوتی بلکہ اس سے پہلے واضح جذباتی، رویہ جاتی اور ابلاغی علامات سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنہائی اختیار کرنا، مستقل مایوسی، موڈ میں شدید تبدیلیاں اور روزمرہ معاملات سے نمٹنے میں دشواری ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دوست اور ساتھی بروقت محسوس کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان علامات سے آگاہ ہوں۔کنسلٹنٹ ماہر نفسیات ڈاکٹر حارث کامران نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جب کسی فرد کو پیشہ وارانہ مدد کے لئے رجوع کرایا جاتا ہے تو خودکشی کے خیالات کا علاج کیسے کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خودکشی کے خیالات قابل علاج ہیں اور بروقت رجوع، مناسب مداخلت اور مسلسل فالو اَپ سے خطرے میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خودکشی کے خیالات آنا اس بات کی علامت نہیں کہ فرد ہمیشہ کے لیے خطرے میں رہے گا، بشرطیکہ اسے درست علاج اور معاونت میسر ہو۔نشست میں ساتھی طلبہ کے کردار کو بطور ابتدائی معاونین خصوصی اہمیت دی گئی۔
طلبہ کو تلقین کی گئی کہ وہ خود کو ایک وسیع حفاظتی نظام کا حصہ سمجھیں، جو ذہنی دباؤ کی نشاندہی، ہمدردی کے ساتھ بات چیت اور متاثرہ افراد کو پیشہ وارانہ مدد سے جوڑنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ اکیلے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔نشست کے دوران طلبہ کے ساتھ باہمی تبادلہ خیال بھی کیا گیا کہ کسی ایسے شخص سے بات کیسے کی جائے جو خودکشی کے خیالات رکھتا ہو۔
تربیت دینے والوں نے بغیر کسی ججمنٹ کے سننے، سطحی یا تسلی بخش جملوں سے گریز کرنے اور براہِ راست مگر باوقار سوالات پوچھنے کی اہمیت پر زور دیا۔مقررین نے پاکستان میں خودکشی کی روک تھام کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں سماجی بدنامی، ذہنی صحت کی محدود سہولیات اور قانونی رکاوٹیں شامل ہیں۔
خودکشی کی کوشش پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 کے تحت قابل سزا جرم ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون لوگوں کو مدد حاصل کرنے سے روکتا ہے اور ذہنی دباؤ کو مزید پوشیدہ بنا دیتا ہے۔فیکلٹی ممبران نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں جامعات میں خاص طور پر اہم ہیں، جہاں تعلیمی دباؤ، مالی مشکلات اور ذاتی مسائل بیک وقت موجود ہوتے ہیں اور جہاں ساتھی طلبہ عموماً رویّوں میں تبدیلی سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں۔









