نوشہرہ اور مضافات کے مکین 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں

نوشہرہ اور مضافات کے مکین 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔نوجوان حسین علی گزشتہ چار برسوں سے روزانہ تقریباً 12 کلومیٹر کا سفر طے کرکے تحصیل پبی کے فلٹریشن پلانٹ سے پینے کا پانی اپنے گھر پہنچاتا ہے۔ سیلاب کے بعد دریائے کابل کے کنارے واقع ان کے گاؤں محب بانڈہ سمیت متعدد دیہات کا زیرِ زمین پانی آلودہ ہوگیا، جس کے باعث …

پشاور۔ 05 جون (اے پی پی):نوشہرہ اور مضافات کے مکین 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔نوجوان حسین علی گزشتہ چار برسوں سے روزانہ تقریباً 12 کلومیٹر کا سفر طے کرکے تحصیل پبی کے فلٹریشن پلانٹ سے پینے کا پانی اپنے گھر پہنچاتا ہے۔ سیلاب کے بعد دریائے کابل کے کنارے واقع ان کے گاؤں محب بانڈہ سمیت متعدد دیہات کا زیرِ زمین پانی آلودہ ہوگیا، جس کے باعث ہزاروں افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔حسین علی دن بھر مزدوری کرنے کے بعد شام ڈھلے اپنی موٹرسائیکل پر خالی گیلن لاد کر فلٹریشن پلانٹ پہنچتے ہیں اور پانی بھر کر رات گئے گھر واپس لوٹتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آلودہ پانی بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے وہ تمام تر مشکلات کے باوجود روزانہ یہ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔محب بانڈہ، ڈھیری میاں اسحاق، امن کوٹ، بانڈہ شیخ اسماعیل اور دیگر قریبی علاقوں کے سینکڑوں خاندان بھی اسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامی افراد روزانہ موٹرسائیکلوں، رکشوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل کے ذریعے دور دراز علاقوں سے پینے کا پانی لاتے ہیں۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ کمیونٹی فلٹریشن پلانٹ کے قیام کے لیے متعدد بار متعلقہ حکام اور عوامی نمائندوں سے مطالبات کیے گئے، تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی تنزلی کے وسیع تر اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی، جنگلات کی کٹائی، خشک سالی اور زمین کی زرخیزی میں کمی جیسے مسائل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔سابق کنزرویٹر جنگلات گلزار رحمان کے مطابق صوابی، مردان، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سمیت کئی اضلاع میں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث زرعی اراضی متاثر ہو رہی ہے اور صحرائی پھیلاؤ میں اضافہ ہورہا ہےپشاور یونیورسٹی کے سابق چیئرمین شعبۂ ماحولیاتی علوم پروفیسر ڈاکٹر سلیم الرحمٰن نے کہاکہ اگر قدرتی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو مستقبل میں غذائی قلت اور پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

مزید خبریں