نگران وفاقی وزیر برائے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محمد یوسف شیخ کی این سی ایچ ڈی کے نیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے دورہ کے موقع پر گفتگو

قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی جانب سے پہلے قومی تربیتی ادارے کا قیام خوش آئند ہے، ایک بہتر نصاب اور بہترین استاد معیاری تعلیم کے بنیادی اجزاءہیں، نصاب کو حقیقی معنوں میں لٹریسی سکلز کیلئے درکار سیکھنے کے عمل کی عکاسی کرنی چاہئے نگران وفاقی وزیر برائے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محمد یوسف شیخ کی این سی ایچ ڈی کے نیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے دورہ کے …

قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی جانب سے پہلے قومی تربیتی ادارے کا قیام خوش آئند ہے، ایک بہتر نصاب اور بہترین استاد معیاری تعلیم کے بنیادی اجزاءہیں، نصاب کو حقیقی معنوں میں لٹریسی سکلز کیلئے درکار سیکھنے کے عمل کی عکاسی کرنی چاہئے
نگران وفاقی وزیر برائے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محمد یوسف شیخ کی این سی ایچ ڈی کے نیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے دورہ کے موقع پر گفتگو

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی) نگران وفاقی وزیر برائے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محمد یوسف شیخ نے کہا ہے کہ تعلیم، معاشی تحفظ اور اچھی صحت لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، غیر رسمی تعلیم میں تربیت کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا ہے، قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کی جانب سے پہلے قومی تربیتی ادارے کا قیام خوش آئند ہے۔ وہ جمعہ کو این سی ایچ ڈی کے نیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے پہلے دورہ کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔ نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ این سی ایچ ڈی کو غیر روایتی تعلیم کا ابتدائی اور مرکزی ادارہ قرار دینا چاہئے، تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں زبانوں (مادری زبانوں) اور ریاضی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، ووکیشنل اور فنی ہنر نصاب میں ماں، بچے کی صحت، کردار سازی، سماجی اقدار، تعمیر ملت میں کردار و ذمہ داریاں اور بالخصوص تاریخ کے ساتھ ساتھ ووکیشنل اور ٹیکنیکل مہارتوں کو بھی شامل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کو حتمی شکل دینے کے بعد ان موضوعات کو آگے پہنچانے کےلئے رہنما اصول بھی تیار کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکھنے کے عمل کے تجزیہ کا ایک مضبوط میکنزم ہونا چاہئے جو سرٹیفیکیشن ور ایکریڈیٹیشن کےلئے ضروری ہوگا۔ قبل ازیں چیئرپرسن این سی ایچ ڈی نے وفاقی وزیر کو این ٹی آئی کے ماہرین اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے تعلیمی نصاب پر نظرثانی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنائیں تو ہم مثبت تاثر پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بہتر نصاب اور بہترین استاد معیاری تعلیم کے بنیادی اجزاءہیں۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کو حقیقی معنوں میں لٹریسی سکلز کیلئے درکار سیکھنے کے عمل کی عکاسی کرنی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم بالغاں کو اس صورت میں خواندگی کے پروگرام سے منسلک کرنا چاہئے اگر وہ اپنی زندگیوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ انہوں نے خواندگی کی تعریف میں سخت محنت کی ضرورت پر زور دیا جو انتہائی حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربہ اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر اس تعریف کو فوری طور پر تیار ہونا چاہئے۔ این سی ایچ ڈی کی چیئرپرسن نے این ٹی آئی کے کام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ این ٹی آئی نے وژن 2025ءکے تعلیمی اہداف کے حصول کےلئے تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نیشنل پلان آف ایکشن کے نام سے ایک حکمت عملی تیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسٹیٹیوٹ نے آئندہ پانچ سالوں میں 9 سے 14 سال کی عمر کے سکولوں سے باہر 7 ملین بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے لئے 34 ہزار غیر رسمی سکولوں کے قیام کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ خواندگی کیلئے صلاحیتوں کی تعمیر کیلئے تربیتوں کے انعقاد کیلئے مینوئلز اور ماڈیولز بھی تیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسٹیٹیوٹ فیڈر سکولوں میں تعلیمی پروگراموں کو فروغ دینے کے لئے وسائل بھی مہیاءکر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی تعلیم کو غیر رسمی تعلیمی سسٹم کی بہتری میں استعمال کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے این ٹی آئی کے ماہرین کے کام اور خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے فروغ کے لئے این سی ایچ ڈی کے کردار کو سراہا۔