نیب نے بدعنوان، اشتہاری اور مفروروں کو آہنی ہاتھوں سے پکڑنے کا عزم کر رکھا ہے، ، چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

نیب نے بدعنوان، اشتہاری اور مفروروں کو آہنی ہاتھوں سے پکڑنے کا عزم کر رکھا ہے، ”احتساب سب کےلئے“ پالیسی کے تحت چہرے کو نہیں کیس کو دیکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے،بدعنوان عناصر سے 296ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال اسلام آباد ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے …

نیب نے بدعنوان، اشتہاری اور مفروروں کو آہنی ہاتھوں سے پکڑنے کا عزم کر رکھا ہے، ”احتساب سب کےلئے“ پالیسی کے تحت چہرے کو نہیں کیس کو دیکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے،بدعنوان عناصر سے 296ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد ۔ 2 ستمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے بدعنوان، اشتہاری اور مفروروں کو آہنی ہاتھوں سے پکڑنے کا عزم کر رکھا ہے جس کے لئے ”احتساب سب کےلئے“ پالیسی کے تحت چہرے کو نہیں کیس کو دیکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2017ءمیں نیب کی تشکیل نو کی گئی تا کہ بدعنوانی کے مقدمات کی انکوائری اور تفتیش کا عمل شفاف اور بلاخوف وخطر ہو۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے کام کے بوجھ کی درجہ بندی کر رکھی ہے اور صاف،موثر اور تیزتر کیسز کو نمٹانے کےلئے ٹائم لائن مقرر کیا ہے اور زیادہ سے زیادہ 10ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ یکسانیت اور معیاریت کو یقینی بنانے کے حوالے سے تفتیشی افسران کے لئے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) متعارف کرایا گیا ہے۔ سینئر سپروائزری عملہ کی اجتماعی دانش اور تجربہ سے استفادہ کرتے ہوئے 10سال بعد نظرثانی کیا گیا۔ سی آئی ٹی کے نظام میں ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، تفتیشی افسر اور ایک سینئر قانون دان پر مشتمل اراکین ٹیم میں شامل ہے، اس عمل سے نہ صرف کام کے معیار کو بہتر بنایا گیا بلکہ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد نیب کی کارروائیوں پر اثرانداز نہ ہو سکے۔

مزید خبریں