اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے شفافیت، دیانتداری اور احتساب کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں 1.10 ٹریلین روپے کی تاریخی ریکوری کی ہے، یہ رقم گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 242 فیصد زیادہ ہے جو نیب کی کارکردگی میں غیر معمولی بہتری کی واضح علامت ہے۔ترجمان نیب کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں 456.3 ارب روپے کی بازیابی …
نیب کی شاندار کارکردگی ، تیسری سہ ماہی 2025 میں 1.10 ٹریلین روپے کی ریکوری ، قومی خزانے میں نمایاں اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) نے شفافیت، دیانتداری اور احتساب کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے سال 2025 کی تیسری سہ ماہی میں 1.10 ٹریلین روپے کی تاریخی ریکوری کی ہے، یہ رقم گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 242 فیصد زیادہ ہے جو نیب کی کارکردگی میں غیر معمولی بہتری کی واضح علامت ہے۔ترجمان نیب کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں 456.3 ارب روپے کی بازیابی ہوئی تھی جبکہ رواں سہ ماہی میں 645.74 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اب تک سال 2025 کی تین سہ ماہیوں کے دوران 1,649.36 ارب روپے کی مجموعی ریکوری ہوچکی ہے جس میں منقولہ و غیرمنقولہ اثاثوں کی مالیت 1,637.15 ارب روپے شامل ہے جو مختلف وفاقی و صوبائی اداروں کو منتقل کی جاچکی ہے۔
عوامی دھوکہ دہی کے کیسز میں 17,194 متاثرین نیب کی بازیابیوں سے مستفید ہوئے۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران نیب نے 6,956.8 ارب روپےکی ریکوری کی، جو بیورو کے قیام کے بعد کی گئی 839.08 ارب روپے کی ریکوری کے مقابلے میں 829 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔نیب کراچی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے مقدمے میں 2.8 ارب روپے مالیت کے دو قیمتی پلاٹ بازیاب کر کے کے پی ٹی کے حوالے کئے۔نیب سکھر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی 361 ایکڑ اضافی اراضی بازیاب کی جس کی مالیت 2.5 ارب روپے ہے۔مینگرووز جنگلات کی اراضی 1.39 ملین ایکڑ (مالیت 1,104.97 ارب روپے) بازیاب کی گئی جس سے جنگلات کی مجموعی ریکوری 2,592.74 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
نیب بلوچستان نے 414,036 ایکڑ جنگلاتی اراضی بازیاب کرائی جس کی مالیت 44.8 ارب روپے ہے۔نیب خیبرپختونخوا نے 3.2 ارب روپے مالیت کی غیرقانونی طور پر الاٹ کی گئی اراضی ریکور کر کے وزارتِ صنعت و پیداوار کے حوالے کی۔عوامی دھوکہ دہی کے متاثرین کے ازالے کے لئے نیب نے B4U کیس میں 5008 متاثرین کو پہلی بار آن لائن ادائیگی/رقوم کی تقسیم کی۔منی لانڈرنگ کے خلاف سخت اقدامات نیب نے اینٹی منی لانڈرنگ ضابطہ کار کے تحت غیر قانونی دولت کی نقل و حرکت روکنے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر کئی اہم شخصیات اور اداروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جن پر منی لانڈرنگ، غیر قانونی اثاثہ جات کی منتقلی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان مقدمات سے بڑی ریکوریز متوقع ہیں جو قومی خزانے کے استحکام میں مزید اضافہ کریں گی۔ نیب پرعزم ہے کہ تمام مقدمات کو بلاامتیاز اور شفاف طریقے سے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔بیورو کے مطابق نیب کا قیام قومی احتساب آرڈیننس کے تحت عمل میں آیا تھا جس کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ اور شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔ عوامی آگاہی،احتساب اور روک تھام نیب کی جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔نیب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے کی اس قومی مہم میں بھرپور تعاون کریں اور ملک کو کرپشن سے پاک بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔








