اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 68.8 فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے، نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت، میرٹ اور قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد کے ذریعے ملک سے ہر قسم کی بدعنوانی کو …
نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح 68.8فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے ،جسٹس جاوید اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 68.8 فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے، نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت، میرٹ اور قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد کے ذریعے ملک سے ہر قسم کی بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے موثر نتائج آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو 2020ءمیں اسی عرصے کے دوران 2019ءکے مقابلے میں دگنا شکایات موصول ہوئیں‘ گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے مقدمات تیزی سے نمٹانے کےلئے اوقت کار کا تعین کیا ہے۔ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے‘ اس سے نہ صرف نیب افسران کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب میں مقدمات کی تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہو سکتا‘ انکوائری اور انوسٹی گیشن کے معیار میں بہتری اور سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام بہت کامیاب رہاہے۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ نیب سارک ممالک کےلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے‘ پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کےلئے ملک بھر کے سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 50 ہزار سے زائد انجمنیں تشکیل دی گئی ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب نے وفاقی اور صوبائی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کےلئے متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا جائزہ لے کر ان کی خامیاں دور کرنے کےلئے پری وینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں۔نیب کے بدعنوانی کے 1230ریفرنسز مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریبًا 943ارب روپے بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجٹیل فرانزک سوالیہ دستاویزات اور فنگرپرنٹس کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے جس سے نیب کی انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو نمٹانے کی کارکردگی میں مزید بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے پاکستان میں سی پیک کے تحت شروع کئے گئے منصوبوں کی نگرانی کےلئےچین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پلڈاٹ، مشال اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبراداروں نے بدعنوانی کے خاتمے کےلئے نیب کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کےلئے جامع معیاری مقداری نظام وضع کیا ہے۔ نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بےورز کی کارکردگی کا مقرر کردہ طرےقہ کار کے تحت ششماہی اور سالانہ بنےادوں پر جائزہ لےا جا رہا ہے جو کہ کامیاب رہا ہے اور اس سے ان کی کارکردگی میں روز بروز مزید بہتری آرہی ہے۔ چیئرمین نیب نے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام میگا کرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق مقررہ وقت پر نمٹانے کےلئے شکایت کی جانچ پڑتال انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو بروقت نمٹائیں۔







