نیب کے افسران کی وابستگی کسی سیاسی جماعت، گروہ و فرد سے نہیں، ان کا مقصد صرف اور صرف ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے، میگا کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی،چیئر مین نیب

لاہور۔14 نومبر(اے پی پی )قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور بیورو کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم کیجانب سے انہیں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں سابق وزیر ِ اعلی پنجاب ملزم شہباز شریف، ملزم حمزہ شہباز، ملزم سلمان شہباز و دیگر کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات، چوہدری شوگر ملز کیس میں ملزم …

لاہور۔14 نومبر(اے پی پی )قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور بیورو کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم کیجانب سے انہیں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں سابق وزیر ِ اعلی پنجاب ملزم شہباز شریف، ملزم حمزہ شہباز، ملزم سلمان شہباز و دیگر کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات، چوہدری شوگر ملز کیس میں ملزم میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، ملزم یوسف عباس اور ملزم عبدالعزیز کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی انکوائری، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے داماد ملزم عمران علی یوسف کیخلاف تحقیقات، سابق وزیرِ خزا نہ ملزم اسحاق ڈار کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کیخلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کیخلاف جاری تحقیقات، میاں محمد نواز شریف کیخلاف ایل ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیسز میں ہونے والی پیشرفت پر جامع بریفنگ دی گئی۔چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کے افسران کی وابستگی کسی سیاسی جماعت، گروہ و فرد سے نہیں بلکہ انکا مقصد صرف اور صرف ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے جسے وہ اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے مقدمات کی تحقیقات وائٹ کالر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں جن میں دستاویزی ثبوتوں کا حصول انتہائی اہم ہوتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ نیب نے کسی کا فیس نہیں بلکہ کیس دیکھ کر اپنی تحقیقات کا قانون اور شواہد کی بنیاد پر آغاز کرتا ہے۔ جن کیسز میں شہادتیں موجود ہیں وہاں ٹھوس اورمضبوط کیس بنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے افسران ٹیم ورک کے تحت کام کریں یوں کہ نیب میں کیس کی تحقیقات کیلئے کمبائینڈ انوسیٹی گیشن ٹیم(CIT) کے نظام کو اسی لئے متعارف کروایا گیاہے جسکے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے نیب افسران سے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سر انجام دیں۔ انہوں نے تحقیقاتی افسران کو ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو ٹھوس شواہد اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیا جائے ہر شخص کی عزت ِ نفس کا خیال کیا جائے۔ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔چیئر مین نیب نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ میں نیب نے 71ارب کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جس میں بڑا کردار نیب لاہور کا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے50کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک اکاؤنٹس سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی جبکہ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا چار(4) کنال پر محیط گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جارہا ہے جسے فروخت کرکے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائیگی۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فائنینشل آفیسر ملزم اکرام نوید سے نیب لاہور نے1ارب مالیت کی جائیدادیں برآمد کروا کر حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کیں۔ انہوں نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی سربراہی میں نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہا۔

مزید خبریں