نیب کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی قطر کے سفیر علی مبارک علی عیسیٰ الخاطر سے ملاقات، باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے بدھ کو پاکستان میں قطر کے سفیر علی مبارک علی عیسیٰ الخاطر سے اہم ملاقات کی جس میں نیب کے اعلیٰ سطحی وفد نے بھی شرکت کی۔ملاقات کے دوران چیئرمین نیب نے قطر کے سفیر کو خوش آمدید کہا اور نیب کے قیام، مقاصد اور قومی بدعنوانی کے انسداد میں کردار کے بارے میں …

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے بدھ کو پاکستان میں قطر کے سفیر علی مبارک علی عیسیٰ الخاطر سے اہم ملاقات کی جس میں نیب کے اعلیٰ سطحی وفد نے بھی شرکت کی۔ملاقات کے دوران چیئرمین نیب نے قطر کے سفیر کو خوش آمدید کہا اور نیب کے قیام، مقاصد اور قومی بدعنوانی کے انسداد میں کردار کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے قطر کی جانب سے اقوام متحدہ کے کنونشن انسداد بدعنوانی (یو این سی اے سی) کے تحت پاکستان کے دوسرے ملکی جائزے میں ریویور کے طور پر مثبت کردار ادا کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔چیئرمین نیب نے دسمبر 2025ء میں دوحہ میں منعقدہ 11 ویں کانفرنس آف دی سٹیٹس پارٹیز (سی او ایس پی) اور 15 ویں انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف اینٹی کرپشن اتھارٹیز (آئی اے اے سی اے) کے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر قطر کی حکومت کو مبارکباد دی۔ملاقات میں فریقین نے قومی احتساب بیورو اور قطر کی ایڈمنسٹریٹو کنٹرول اینڈ ٹرانسپیرنسی اتھارٹی (اے سی ٹی اے) کے درمیان فوجداری امور میں باہمی تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں بھی بات چیت کی۔ نیب نے امید ظاہر کی کہ تجویز کردہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے لیے قطر کی جانب سے جلد ورچوئل اجلاس کی تاریخ موصول ہو گی۔

چیئرمین نیب نے پاکستان میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے قائم ’’پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی‘‘ (پی اے سی اے) اور ’’سینٹر آف ایکسی لینس‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے تربیت اور استعداد کار بڑھانے میں ممکنہ تعاون کی تجاویز پیش کیں۔ قطر کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے کاروباری مفادات کے پیش نظر نیب کے چیئرمین نے شفاف اور سازگار کاروباری ماحول کے فروغ کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان سے قطر جانے والے ہنر مند ورکروں کے کردار کو بھی سراہا گیا۔فریقین نے غیرقانونی مالی ترسیلات روکنے اور مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔