اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی ) اسلام آباد میں گندم اور دالوں کے لیے قائم کی گئی جدید سپیڈ بریڈنگ سہولیات اور ذہین آئی او ٹی پر مبنی سمارٹ گلاس ہائوس کا افتتاح کیا جو پاکستان کے زرعی تحقیق و ترقی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا …
نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں زرعی تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز،وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں سپیڈ بریڈنگ اور ذہین آئی او ٹی پر مبنی سمارٹ گلاس ہائوس سہولیات کا افتتاح کر دیا
اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی ) اسلام آباد میں گندم اور دالوں کے لیے قائم کی گئی جدید سپیڈ بریڈنگ سہولیات اور ذہین آئی او ٹی پر مبنی سمارٹ گلاس ہائوس کا افتتاح کیا جو پاکستان کے زرعی تحقیق و ترقی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے فصلوں کی بہتری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سائنسی جدت کے ذریعے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو مضبوط بنانے کی پاکستان کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق تقریب کے دوران وفاقی وزیر کو سپیڈ بریڈنگ ٹیکنالوجی کے بارے میں بریفنگ دی گئی جو خلائی تحقیق کے تصورات سے متاثر ایک جدید طریقہ ہے اور کنٹرول شدہ ماحول فراہم کر کے پودوں کی افزائش کے دورانیے کو نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔ خصوصی ایل ای ڈی لائٹس کے ذریعے 22 گھنٹے تک روشنی، درجہ حرارت اور نمی کو متوازن کو برقرار رکھ کر فصلوں کی نشوونما کو غیر معمولی رفتار دی جاتی ہے۔ اس نظام کے تحت گندم صرف 6 سے 8 ہفتوں میں اپنا حیاتیاتی چکر مکمل کر لیتی ہے جس سے ایک سال میں گندم کی 5 سے 6 فصلیں تیار کی جا سکتی ہیں۔
اس طریقہ کار کے ذریعے فصلوں کی نئی اقسام کی تیاری کا روایتی 14 سالہ دورانیہ تقریباً نصف رہ جاتا ہے جس سے بہتر اقسام بروقت کاشتکاروں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔گندم کے لیے سپیڈ بریڈنگ کی یہ سہولت فصلاتی علوم کے ادارے، این اے آر سی میں پی ایس ڈی پی کے تحت جاری گندم کی پیداوار میں بہتری کے منصوبے کے تحت قائم کی گئی ہے۔ کنٹرول شدہ گلاس ہائوس چیمبرز، جدید ایل ای ڈی گرو لائٹنگ اور درجہ حرارت و نمی کے موثر نظام سے لیس یہ سہولت خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔
اس کے قیام کے بعد اب تک 3 ہزار سے زائد نئی گندم کی لائنیں تیزی سے تیار کی جا چکی ہیں جو اس وقت فیلڈ میں پیداواری آزمائش کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ یہ سہولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر استعداد سازی کا مرکز بھی بن چکی ہے جہاں سینکڑوں سائنسدانوں، بریڈرز اور طلبہ کو سپیڈ بریڈنگ کی تربیت دی جا چکی ہے جبکہ دیگر اہم فصلوں کے لیے بھی اس کے طریقہ کار کو وسعت دی جا رہی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے پاکستان میں پہلی مرتبہ دالوں کے لیے قائم کی گئی خصوصی سپیڈ بریڈنگ سہولت کا بھی افتتاح کیا جو پی ایس ڈی پی دالوں کے منصوبے کے تحت قائم کی گئی ہے۔ دالیں قومی غذائی تحقیق و تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ یہ سستی پروٹین فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نائٹروجن فکسیشن کے ذریعے مٹی کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتی ہیں تاہم طویل افزائشی دورانیے اور موسمی و بیماریوں کے بڑھتے ہوئے دبائو کے باعث دالوں کی پیداوار میں اضافہ سست روی کا شکار رہا ہے۔
نئی سہولت کنٹرول شدہ گروتھ چیمبرز، قابل ترتیب ایل ای ڈی لائٹنگ اور متوازن ماحولیاتی حالات کے ذریعے چنا، مسور، مونگ اور ماش جیسی اہم دالوں کی سالانہ 4 سے 6 فصلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں نمایاں پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے جن میں چنے کی جدید افزائشی لائنوں کی تیاری، مختلف نسلوں کی بہتری اور یکساں ماحول میں زیادہ درست فینوٹائپنگ شامل ہیں۔چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے ان انقلابی منصوبوں کے تصور، رہنمائی اور عملی نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پارک نے جدید افزائشی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل زراعت کو ترجیح دی تاکہ پاکستان کے زرعی تحقیقی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
ڈاکٹر اندرابی نے اس بات پر زور دیا کہ سپیڈ بریڈنگ اور کنٹرول شدہ ماحول پر مبنی جدید سہولیات تیز جینیاتی بہتری، فصلوں کی موسمیاتی مزاحمت اور غذائی تحفظ کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولیات این اے آر سی کو جدید پودا افزائش، جینومکس اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کے ایک ممتاز مرکز میں تبدیل کرنے کے پارک کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں جبکہ قومی و بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دیتی ہیں۔تقریب کے دوران اپنے خطاب میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ اقدامات غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے سے متعلق قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اناج اور دالوں دونوں میں افزائشی عمل کو تیز کرنے سے ملکی پیداوار میں اضافہ، درآمدات پر انحصار میں کمی اور بہتر اقسام کی بروقت دستیابی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی جدید سہولیات کا قیام جدید پودا افزائش میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور جدید تحقیقی طریقوں کو اپنانے کے عزم کا مظہر ہے۔وفاقی وزیر نے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیوٹیکنالوجی میں قائم ذہین آئی او ٹی پر مبنی سمارٹ گلاس ہائوس کا بھی افتتاح کیا۔
2,640 مربع فٹ پر مشتمل یہ مکمل خودکار تحقیقی سہولت آئی او ٹی سینسرز، مصنوعی ذہانت، قابل پروگرام کنٹرول سسٹمز اور ڈیٹا اینالیٹکس پر مشتمل ہے جو جینومکس پر مبنی اسپیڈ بریڈنگ، سٹریس بائیالوجی اور جدید فینوٹائپنگ کی معاونت کرتی ہے۔ یہ سہولت بڑی فصلوں کے لیے مکمل طور پر فعال ہے اور کنٹرول شدہ ماحول میں حقیقی وقت میں نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کو ممکن بناتی ہے۔
حالیہ کامیابیوں میں شدید گرمی کے دبائو کے تحت فصلوں کی اسکریننگ، گندم کی نسلوں کی تیز تر افزائش، ایکواپونکس نظام کے تحت کامیاب کاشت اور جین ایڈیٹڈ پودوں کی کنٹرول شدہ ماحول میں ہم آہنگی شامل ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ذہین سمارٹ گلاس ہائوس مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ایک قومی اثاثہ ہے جو جینومکس، ڈیجیٹل زراعت اور پائیدار غذائی پیداوار کے درمیان ایک مضبوط ربط فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپیڈ بریڈنگ، درست فینوٹائپنگ اور خودکار ماحولیاتی کنٹرول کا امتزاج موسمیاتی تبدیلی، وسائل کے موثر استعمال اور پائیدار زراعت سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ان سہولیات کے قیام میں شامل سائنسدانوں اور محققین کی کاوشوں کو سراہا اور حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کو مزید وسعت دینے، قومی و بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ این اے آر سی میں ان جدید تحقیقی سہولیات کا افتتاح ڈیٹا پر مبنی، موسمیاتی لحاظ سے موزوں اور وسائل کے موثر استعمال پر مبنی زراعت کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ افزائشی دورانیے میں نمایاں کمی اور تحقیقی درستگی میں اضافے کے ذریعے یہ اقدامات پاکستان کے زرعی تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے اور ملک کے لیے طویل المدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔









