نیشنل فارنزک ایجنسی پاکستان میں فارنزک سائنس کے سینٹر آف ایکسی لنس کے طور پر کام کرے گی، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف

نیشنل فارنزک ایجنسی پاکستان میں فارنزک سائنس کے سینٹر آف ایکسی لنس کے طور پر کام کرے گی، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف

اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے جرائم کی تفتیش کی حرکیات تبدیل کر دی ہیں، فارنزک شواہد جرائم کی شناخت، موثر پراسیکیوشن اور سزائوں کے حصول میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فارنزک سائنس انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نیشنل فارنزک ایجنسی کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر انہیں ایجنسی کے مختلف شعبوں، لیبارٹریز اور فارنزک تحقیقات کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل فارنزک ایجنسی ایکٹ 2024 کے تحت 24 دسمبر 2024 کو نیشنل فارنزک ایجنسی قائم کی گئی، جو ملک کا مرکزی وفاقی فارنزک ادارہ ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، پراسیکیوشن اور عدالتوں کو سائنسی فارنزک خدمات فراہم کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ نیشنل فارنزک ایجنسی کی 11 فارنزک لیبارٹریز فعال اور نوٹیفائیڈ ہیں جبکہ ڈیجیٹل فارنزکس اور ایکسپلوسیو فارنزکس کے سینٹرز آف ایکسی لنس بھی قائم کیے گئے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل فارنزکس لیب کو 2506 کیسز موصول ہوئے، جن میں سے 2158 کیسز مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 3090 ڈیجیٹل ڈیوائسز پروسیس کی گئیں۔ کیمیکل اور بائیولوجیکل فارنزک لیبارٹریز میں 1525 کیسز موصول ہوئے جن میں سے 1044 مکمل کیے گئے۔وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ ایکسپلوسیو فارنزکس سینٹر آف ایکسی لنس کے تحت نیشنل بم ایکسپلویژن اینڈ انویسٹی گیشن سسٹم بھی قائم کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے قلیل مدت میں نیشنل فارنزک ایجنسی کو فعال بنانے پر ڈائریکٹر جنرل جواد احمد ڈوگر اور ادارے کے عملے کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ فارنزک تجزیے سے دھماکہ خیز مواد اور استعمال ہونے والے اسلحے کے ماخذ کا تعین ممکن ہے جبکہ جدید فارنزک صلاحیتیں جرائم کی تفتیش، پراسیکیوشن اور سزائوں کے حصول میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل فارنزک ایجنسی پاکستان میں فارنزک سائنس کے سینٹر آف ایکسی لنس کے طور پر کام کرے گی اور دیگر لیبارٹریز و متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی معاونت فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں آن لائن فراڈ، ڈیٹا لیکس اور سائبر جرائم نئے چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے تفتیش کاروں، پراسیکیوٹرز اور فارنزک ماہرین کی مسلسل تربیت ضروری ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ فارنزک نظام میں موجود قانونی خلا اور ادارہ جاتی رابطوں کے فقدان کو دور کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ متعلقہ اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کے ذریعے فارنزک، تفتیش اور پراسیکیوشن کے درمیان مربوط نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مزید خبریں