نیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ، ایچ ای سی نے میدان مار لیا، بلوچستان کے امیر حمزہ نے پہلا تاریخی گولڈ میڈل جیت لیا

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2026ء میں مرد اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے میدان مار لیا جبکہ پنجاب کی ٹیم چیمپئن شپ میں دوسرے نمبر (رنرز اپ) پر رہی

لاہور۔15جولائی (اے پی پی):ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2026ء میں مرد اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے میدان مار لیا جبکہ پنجاب کی ٹیم چیمپئن شپ میں دوسرے نمبر (رنرز اپ) پر رہی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے تعاون اور منظوری سے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی عبوری کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ یہ پانچ روزہ قومی چیمپئن شپ نیشنل کوچنگ سینٹر لاہور میں اختتام پذیر ہوئی۔چیمپئن شپ کی سب سے نمایاں کارکردگی پنجاب کی نمائندگی کرنے والے 17 سالہ نوجوان ویٹ لفٹر فرقان احمد کی رہی جنہوں نے 88 کلوگرام کیٹیگری میں ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے سنیچ میں 145 کلوگرام اور کلین اینڈ جرک میں 180 کلوگرام وزن اٹھا کر مجموعی طور پر 325 کلوگرام کا نیا ریکارڈ اپنے نام کیا جبکہ اس سے قبل کراچی میں منعقدہ 35ویں نیشنل چیمپئن شپ 2025ء میں ان کا مجموعی وزن 315 کلوگرام تھا۔ پنجاب ہی سے تعلق رکھنے والے 17 سال سے کم عمر ویٹ لفٹر حیدر شکیب (جو 2024ء میں روس کے فار ایسٹ کپ کے سلور میڈلسٹ بھی ہیں) نے 94 کلوگرام کیٹیگری میں مجموعی طور پر 287 کلوگرام وزن اٹھا کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

یہ دونوں نوجوان کھلاڑی معروف انٹرنیشنل چیمپئنز اور ریکارڈ ہولڈرز شجاع الدین ملک اور سجاد امین ملک کی زیر نگرانی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔بلوچستان کے لیے یہ ایونٹ اس وقت تاریخی ثابت ہوا جب 17 سال سے کم عمر ویٹ لفٹر امیر حمزہ نے 110 کلوگرام کیٹیگری میں مجموعی طور پر 270 کلوگرام وزن اٹھا کر صوبے کے لیے پہلا طلائی تمغہ (گولڈ میڈل) جیتا۔ امیر حمزہ سابق نیشنل چیمپئن اور انٹرنیشنل ویٹ لفٹر عالم دین کے بیٹے ہیں۔ دوسری جانب، خواتین کے مقابلوں میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جہاں ایچ ای سی کی ماہم قاسم، سحر واعین، اقصیٰ بشیر، عائشہ جہانگیر، زوہا جاوید اور فضا کھوکھر نے جبکہ پنجاب کی ایمان فاطمہ اور سمائیکہ بٹ نے اپنے اپنے وزن کے زمرے میں سونے کے تمغے جیتے۔اس سے قبل چیمپئن شپ کے پہلے روز کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک اہم قومی سیمینار منعقد کیا گیا جس کا عنوان ’’ڈوپنگ اور اس کے اثرات‘‘ تھا۔ پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کے سی ای او ڈاکٹر سہیل سلیم نے کلیدی خطاب کیا جبکہ پی ڈبلیو ایل ایف کی عبوری کمیٹی کے رکن کرنل ڈاکٹر حافظ ظفر اقبال نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔

مقررین نے کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کے جسمانی و ذہنی صحت اور کھیلوں کے کیریئر پر پڑنے والے منفی اثرات سے خبردار کیا اور انہیں کسی بھی قسم کے سپلیمنٹس اور ملٹی وٹامنز کے استعمال سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے قدرتی غذا پر انحصار کرنے کی ہدایت کی۔

مزید خبریں