نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے بین المذاہب و بین المسالک وفد کا جامعہ اشرفیہ کا دورہ

نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے بین المذاہب و بین المسالک وفد کا جامعہ اشرفیہ کا دورہ

لاہور۔3جولائی (اے پی پی):قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر پر مشتمل مشترکہ وفد نے پاکستان کے ممتاز دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا جہاں اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغام امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں آنے والے وفد میں مسیحی، ہندو، شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے نمائندے شامل تھے۔

جامعہ اشرفیہ کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور تاریخی اقدام قرار دیا۔وفد میں بشپ کامران، رمیش کمار، بھگت لال کھوکھر، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف واحدی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا انوارالحق، مولانا یوسف کشمیری، انجینئر عثمان، مولانا زاہد محمود قاسمی، علامہ توقیر عباس، علامہ سلمان نقوی، مولانا اکبر آصف میر سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، مذہبی رہنما اور دانشور بڑی تعداد میں شریک تھے۔

دورے کے دوران وفد اور جامعہ اشرفیہ کی قیادت کے درمیان بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، باہمی احترام، قومی اتحاد اور معاشرتی استحکام کے فروغ سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن، بھائی چارے، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام مذہبی و سماجی طبقات باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے اس مشترکہ دورے کو قومی ہم آہنگی کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ملک کے بڑے دینی اداروں کا دورہ کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام مذہبی طبقات امن، رواداری اور اتحاد کے مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے تحت اس نوعیت کے مشترکہ اقدامات نہ صرف بین المذاہب اور بین المسالک روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ ملک بھر میں امن، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔