نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیلاب زدہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا آغاز کر دیا، این ڈی ایم اے کا یو این ایجنسیز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی ریپڈ اسیسمنٹ کے لئے خط ، یو این ایجنسیز نقصانات کا تخمینہ پی ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرلگائیں گی، ترجمان

اسلام آباد ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلہ میں این ڈی ایم اے نے یو این ایجنسیز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی ریپڈ اسیسمنٹ کے لئے خط لکھا ہے۔ یو این ایجنسیز نقصانات کا تخمینہ پی ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں اور دیگر …

اسلام آباد ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلہ میں این ڈی ایم اے نے یو این ایجنسیز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی ریپڈ اسیسمنٹ کے لئے خط لکھا ہے۔ یو این ایجنسیز نقصانات کا تخمینہ پی ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر لگائیں گی۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اب تک این ڈی ایم اے نے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) سے مل کر 8ہزار خاندانوں کیلئے 35ٹن راشن فراہم کیا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے 440 ٹن گندم بھی سندھ کے متاثرہ علاقوں کودی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق اب تک این ڈی ایم اے نے 11 ہزار ترپال، 11 ہزار ٹینٹ، 10 ہزارراشن کے پیکٹس، 5 ہزار MREs اور 2 ہزار مچھر دانیاں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو فراہم کیں۔ نیسلے پاکستان کے تعاون سے 100ٹن پینے کاصاف پانی متاثرین کو فراہم کیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے 3لائف بوٹس اور ادویات سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں روانہ کی گئیں۔ اس کے علاوہ یو این ایچ سی آر نے متاثرین کی بحالی کیلئے1ہزار ترپال،2ہزارکمبل اور دیگر سامان بھی فراہم کیا ہے۔