نیوزی لینڈ کی اپیل کورٹ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں فائرنگ کر کے 51 مسلمانوں کو قتل کرنے والا سفید فام انتہا پسند اپنا اعترافِ جرم واپس لینے کی کوشش میں ناکام رہا۔
نیوزی لینڈ،کرائسٹ چرچ مسجد حملہ آور کی اعترافِ جرم واپس لینے کی اپیل مسترد
ولنگٹن۔30اپریل (اے پی پی):نیوزی لینڈ کی اپیل کورٹ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں فائرنگ کر کے 51 مسلمانوں کو قتل کرنے والا سفید فام انتہا پسند اپنا اعترافِ جرم واپس لینے کی کوشش میں ناکام رہا۔ اردو نیوز کے مطابق تین ججوں کے پینل نے برینٹن ٹیرنٹ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ جیل کی صورتحال نے اسے دہشت گردی، قتل اور اقدامِ قتل کے الزامات پر غیرارادی طور پر اعترافِ جرم کرنے پر مجبور کیا۔ آسٹریلوی شہری، جو اب 35 برس کا ہے، نے مارچ 2019 میں نماز جمعہ کے دوران دو مساجد پر نیم خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے 51 نمازیوں کو قتل اور درجنوں کو زخمی کیا تھا۔ مارچ 2020 میں ٹیرنٹ نے اعترافِ جرم کیا۔ اس کی اپیل کی ناکامی، جو مقررہ قانونی مدت کے 505 دن بعد دائر کی گئی تھی، کا مطلب ہے کہ ایسا مقدمہ دوبارہ ٹل گیا ہے۔ججز نے اس کا ذہنی بیماری کا دعویٰ بھی مسترد کر تے ہوئے کہا کہ وہ کسی ذہنی معذوری یا نااہلی کا شکار نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ رضاکارانہ طور پر اعترافِ جرم نہ کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس نے ہمیں اپنی ذہنی حالت کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا تھا۔ عدالت کے فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیرنٹ نے سماعت کے بعد اپنی اپیل ترک کرنے کی کوشش کی، لیکن ججوں نے اسے بھی رد کر دیا اور کہا کہ یہ معاملہ عوامی دلچسپی کا ہے اور اسے حتمی طور پر طے ہونا چاہیے۔








