نیول وار کالج کے زیرِ اہتمام بحری سلامتی سے متعلق ورکشاپ

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):بحری سلامتی سے متعلق ورکشاپ ایم اے آر ایس ای ڈبلیو- 8میں پارلیمنٹیرینز، سفارت کاروں، سرکاری حکام، کاروباری نمائندوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ ورکشاپ لاہور میں نیول وار کالج کے زیرِ اہتمام میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس نے منعقد کی۔ہفتہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب میں بحری سلامتی، علاقائی تعاون، اسٹریٹجک آگاہی اور بلیو …

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):بحری سلامتی سے متعلق ورکشاپ ایم اے آر ایس ای ڈبلیو- 8میں پارلیمنٹیرینز، سفارت کاروں، سرکاری حکام، کاروباری نمائندوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ ورکشاپ لاہور میں نیول وار کالج کے زیرِ اہتمام میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس نے منعقد کی۔ہفتہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب میں بحری سلامتی، علاقائی تعاون، اسٹریٹجک آگاہی اور بلیو اکانومی جیسے موضوعات پر توجہ دی گئی، جبکہ عملی بریفنگز اور اہم بحری و بندرگاہی مقامات کے دورے بھی شامل تھے۔

سری لنکا کے پنجاب کے لیے اعزازی قونصل جنرل اور آئی ڈونیشن ویلفیئر سوسائٹی کے صدر یاسین جویا نے دیگر قومی و بین الاقوامی مندوبین کے ساتھ اس ورکشاپ میں شرکت کی۔یہ ورکشاپ اس مقصد کے تحت ترتیب دی گئی تھی کہ شرکاء کو پاکستان اور خطے کو درپیش بحری چیلنجز اور مواقع کی واضح سمجھ فراہم کی جا سکے۔ سیشنز میں سمندری سلامتی، تجارتی راستوں کا تحفظ، علاقائی ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی اور بحری وسائل کے معاشی استعمال جیسے موضوعات شامل تھے۔

مقررین اور میزبانوں نے رسمی لیکچرز کے بجائے بریفنگز، مباحثوں اور فیلڈ وزٹس کے ذریعے معلومات فراہم کیں جس سے شرکاء کو نیول افسران اور بندرگاہی حکام سے براہِ راست بات چیت کا موقع ملا۔بریفنگ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ بندرگاہیں تجارت، روزگار اور متعلقہ صنعتوں کی کس طرح معاونت کرتی ہیں۔ مندوبین کو بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا گیا جو بڑھتی ہوئی بحری تجارت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ اس سیشن کے دوران شرکاء کو بندرگاہی نظم و نسق، لاجسٹکس اور طویل المدتی منصوبہ بندی سے متعلق سوالات پوچھنے اور وضاحت حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔

ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان نیوی اور میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس کا پروگرام کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ کئی شرکاء نے ایم اے آر ایس ای ڈبلیو-8 کو ایک مفید پیشہ ورانہ تجربہ قرار دیا جس نے عملی مشاہدہ، بامعنی گفتگو اور بحری اداروں سے براہِ راست رابطے کا موقع فراہم کیا۔ ورکشاپ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سراہا گیا جس نے شرکاء کو بحری سلامتی اور سمندر سے وابستہ معاشی امور کی بہتر تفہیم میں مدد دی۔