اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہورہا ، وہاں پر برفباری اور سخت موسم کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے ہوتی آرہی ہے ، وادی تیراہ میں اس وقت بھی 500 سے زائد ٹی ٹی پی کے لوگ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ رہ رہے …
وادی تیراہ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہورہا ، وہاں پر برفباری اور سخت موسم کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کا حصہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہورہا ، وہاں پر برفباری اور سخت موسم کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے ہوتی آرہی ہے ، وادی تیراہ میں اس وقت بھی 500 سے زائد ٹی ٹی پی کے لوگ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ رہ رہے ہیں ، مشیران جرگہ اور صوبائی حکومت کے مابین تین ملاقاتوں کے بعد 5 ارب روپے اس نقل مکانی کے لئے مختص کیے گئے ہیں ، اس سارے عمل میں پاک فوج کہیں بھی نہیں ہے
، وادی تیراہ کے 12 ہزار ایکٹر پر بھنگ کاشت ہورہی ہے اور اسکا منافع بھی ٹی ٹی پی کو جارہا ہے ، پی ٹی آئی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاک فوج پر ڈالنا چاہتی ہے ، کے پی حکومت وادی تیراہ سمیت 7 وادیوں کے لوگوں کی مشکلات کو اپنی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرے ۔ وہ منگل کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر اطلاعات برائے خیبر پختونخواہ اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کے ساتھ وادی تیراہ سمیت 7 وادیاں ایسی ہیں جہاں پر ہر سال برفباری کے سیزن میں لوگ 4 سے 5 ماہ کے لئے نقل مکانی کرتے ہیں اور اس0 سال بھی وادی تیراہ کے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اس سے قبل مشیران جرگہ کے لوگون نے کے پی حکومت کے ساتھ 11 دسمبر ، 24دسمبر اور پھر 26 دسمبر کو ملاقاتیں ہوئیں اسی کی روشنی میں کے پی حکومت نے 4 ارب روپے کا مائیگریشن پیکیج بھی مختص کیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ،
یہ میشران پہلے ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے اور اتفاق رائے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا اور صوبائی حکومت نے اپنے وزیراعلی کو اس حوالے سے بتانا پسند نہیں کیا تو اس میں ہمارا کیا قصور بنتا ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ملٹری آپریشنز کے دوران زیادہ نقصانات ہوتے ہیں اس لئے کافی وقت پہلے پاک فوج نے آپریشنز کی بجائے مخصوص انفارمیشن بیسڈ آپریشن شروع کر دیئے ہیں جہاں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہوتی ہے وہاں پر آئی بی او ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تو یقین دہانی کرائی تھی کہ وادی تیراہ سمیت سات وادیوں میں ہسپتال، پولیس سٹیشن ،تعلیمی ادارے بنائے گی لیکن ابھی تک کچھ نہیں دیا گیا اس علاقے کے لوگوں کو ۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ واحد علاقہ ہے جہاں ایک سال 12ہزار ایکٹر اراضی پر بھنگ استعمال ہوتی ہے ، ٹی ٹی پی اس کا منافع کھارہی ہے ، کے پی کے حکومت اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ملکر اس سورس کو استعمال کررہی ہے ۔ وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر برائے اطلاعات ،خیبر پختونخواہ نے کہا کہ پی ٹی آئی دراصل 4 ارب روپے ہڑپنے کے لئے یہ درامہ رچا رہی ہے ۔ وہ ایسے ہی پراجیکٹ بناتے ہیں اور اس میں سے کمائی کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے ہجرت میں پاک فوج کہیں بھی نہیں ہے بلاوجہ پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی ہجرت کے بارے میں نوٹیفکیشن کے پی حکومت کا اپنا ہے اس سے وفاقی حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کے پی حکومت کے سرکردہ لوگ معمول کے ساتھ ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں ،اس وقت بھی وادی تیراہ میں جو 500 ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یہ وہ ہی ہیں جو 2021 میں دوبارہ کے پی کے میں لاکر بسائے گئے تھے ۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ علاقوں کے فیصلے کی واپسی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ریکار ڈپر ہے کہ دو ،تین سالوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے ، پاک فوج کے افسران، جوانوں کی شہادت اورجہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی زیادہ ہے ۔







