وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے ڈسلیکسیا کے شکار بچوں کی بروقت تشخیص ، موثر تعلیمی معاونت کے لیے اقدامات تیز کر دیئے

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے ڈسلیکسیا کے شکار بچوں کی بروقت تشخیص اور موثر تعلیمی معاونت کے لیے جامع اقدامات تیز کر دیئے ہیں، جن میں ملک بھر کے سکولوں میں سکریننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، خصوصی تدریسی مواد کی تیاری اور ماہرینِ نفسیات کے ساتھ اشتراک شامل ہے تاکہ ایسے بچوں کو مساوی اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ جمعرات …

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے ڈسلیکسیا کے شکار بچوں کی بروقت تشخیص اور موثر تعلیمی معاونت کے لیے جامع اقدامات تیز کر دیئے ہیں، جن میں ملک بھر کے سکولوں میں سکریننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، خصوصی تدریسی مواد کی تیاری اور ماہرینِ نفسیات کے ساتھ اشتراک شامل ہے تاکہ ایسے بچوں کو مساوی اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

جمعرات کو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ سومرو کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسلیکسیا کے شکار بچوں کو درپیش تعلیمی مسائل، قانون کے موثر نفاذ اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ وزارتِ تعلیم نے سکریننگ، اساتذہ کی تربیت اور خصوصی سہولیات کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔

وزارتِ تعلیم کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض بچوں میں مخصوص مضامین، خصوصاً زبانوں اور ریاضی کو سمجھنے میں دشواری پائی جاتی ہے جس کے ازالے کے لیے سکریننگ ٹیسٹ اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ حکام کے مطابق بچوں کو ریاضی اور دیگر مضامین میں درپیش مسائل کے حل کے لیے خصوصی تدریسی حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ اجلاس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکالوجی کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

ڈائریکٹر ایجوکیشن نے بتایا کہ ادارے کے تعاون سے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے اب تک 4 ہزار سے زائد بچوں کی سکریننگ مکمل کر لی ہے جبکہ آئندہ مرحلے میں یہ ٹیمیں صرف پرائمری سکولوں کا دورہ کریں گی۔ اس پروگرام کے تحت ایک لاکھ سے زائد بچوں کی سکریننگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ڈسلیکسیا سپیشل اقدامات ایکٹ 2002 کے استعمال اور مجموعی تاثیر پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزارتِ تعلیم کے حکام نے بتایا کہ ڈسلیکسیا بچوں کے لیے قومی بک فاؤنڈیشن کے تعاون سے خصوصی تعلیمی مواد تیار کیا گیا ہے اور اسلام آباد کے سکولوں میں سکریننگ کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ایسے بچوں کو امتحانات میں اضافی وقت دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ ڈسلیکسیا کو درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

رکن کمیٹی زیب جعفر نے کہا کہ ڈسلیکسیا کے حامل بچے معذور نہیں ہوتے، لہٰذا انہیں خصوصی بچوں کی کیٹیگری میں شامل کرنے کی بجائے مناسب تعلیمی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے نجی تعلیمی اداروں کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود اگر ایسے بچوں کے لیے وسائل مختص نہ کیے جائیں تو یہ افسوسناک امر ہے۔

نجی تنظیموں کے نمائندگان نے بتایا کہ ڈسلیکسیا بچوں کو اکثر سکولوں میں داخلہ دینے سے گریز کیا جاتا ہے یا انہیں تعلیمی طور پر کمزور سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر سکول میں سائیکالوجسٹ اور ملٹی ڈسپلنری ٹیم کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور سرکاری سکولوں میں عالمی معیار کا ماڈل اپنایا جائے۔ نمائندگان کے مطابق عملی سطح پر تھیراپسٹس کی شدید کمی ہے جس کے باعث بچوں کو درپیش مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کنوینئر کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے بچوں کو سرکاری سکولوں میں نالائق تصور کر کے بیک بینچرز بنا دیا جاتا ہے جو ان کی خود اعتمادی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

کمیٹی نے وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی کہ قانون پر موثر عملدرآمد، اساتذہ کی مزید تربیت، نجی سکولوں کی جوابدہی اور ڈسلیکسیا بچوں کے لیے جامع پالیسی فریم ورک کی تیاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں مساوی تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ڈسلیکسیا کے حامل بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ اور ان کی مکمل تعلیمی شمولیت کے لیے مربوط اور عملی اقدامات کو تیز کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزارتِ تعلیم، محکمہ تعلیم اسلام آباد، نجی تعلیمی اداروں اور متعلقہ ماہرین کے نمائندگان نے شرکت کی۔