وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا برفانی چیتا کے تحفظ کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ برفانی چیتا‘‘منائے جانے کے موقع پر وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے اس نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی جانور کے تحفظ کے لئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعرات کو جاری بیان میں ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور وائلڈ لائف کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ برفانی چیتا جسے …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ برفانی چیتا‘‘منائے جانے کے موقع پر وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے اس نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی جانور کے تحفظ کے لئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعرات کو جاری بیان میں ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور وائلڈ لائف کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ برفانی چیتا جسے ’’پہاڑوں کا بھوت‘‘ بھی کہا جاتا ہے دنیا کے سب سے نایاب اور خطرے سے دوچار بڑے جانوروں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مقامی برادریوں، سائنسی ماہرین اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے اس کے مسکن کے تحفظ اور بقاء کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہاڑی برادریوں، سائنسدانوں اور تحفظِ ماحول کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے کہ برفانی چیتا ہماری بلندیوں میں ماحولیاتی توازن اور قدرتی استقامت کی علامت کے طور پر زندہ رہے، ہر سال 23 اکتوبر کو منایا جانے والا یہ دن اس سال ’’مستقبل کی نسلوں کے لئے برفانی چیتوں کے مسکن کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے جس کا مقصد عوامی شعور اجاگر کرنا اور اجتماعی کارروائی کو فروغ دینا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں برفانی چیتوں کی آبادی کا تخمینہ ساڑھے تین ہزار سے سات ہزار کے درمیان ہے جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے 12 ممالک میں پائے جاتے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان میں برفانی چیتوں کی تعداد تقریباً 167 بتائی گئی ہے جو زیادہ تر گلگت بلتستان، چترال اور شمالی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ محمد سلیم شیخ نے کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلی، غیرقانونی شکار، چراگاہوں کی کمی اور غیر منظم سیاحت اس جانور کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

درجہ حرارت میں اضافہ اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے ان کا قدرتی مسکن سکڑ رہا ہے جبکہ خوراک کی کمی اور انسانوں سے قربت کے باعث تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سطح پر اقدامات، عوامی آگاہی اور تعلیم ہی اس نوع کے تحفظ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگلی حیات کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد، ماحول دوست سیاحت اور موسمیاتی لحاظ سے پائیدار ترقی کو قومی ترجیح بنانا ناگزیر ہے۔