وزارت صنعت و پیداوار ایس ایم ای فنانسنگ کےفروغ کے لیے بھر پور کوششیں کر رہی ہے ۔سی ای او سمیڈا
وزارت صنعت و پیداوار ایس ایم ای فنانسنگ کےفروغ کے لیے بھر پور کوششیں کر رہی ہے ۔سی ای او سمیڈا

مزید خبریں
لاہور۔8اپریل (اے پی پی):سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا)نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی ہدایت پر ملک کے تمام صوبو ں میں ایس ایم ای فنانسنگ کے مساوی فروغ کیلئے صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ اس سلسلے کے تحت سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بینکوں اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ پانچ الگ الگ اجلاس منعقد کیے گئے جس میں سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہانگیر سیٹھ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے مشاورتی عمل کی قیادت کی۔
اجلاسوں میں سندھ بینک، بینک آف خیبر، سٹیٹ بینک آف پاکستان ، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور صوبائی صنعتی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔سی ای او سمیڈا نے اس موقع پر بتایا کہ وزارت صنعت و پیداوار ، وزیر اعظم پاکستان کے ایس ایم ای ڈویلپمنٹ ویژن کے مطابق ملک کے تمام علاقوں میں ایس ایم ای فنانسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے تاکہ ایس ایم ایز ترقی کر سکیں اور مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹوںمیں اپنے کاروبار کو بڑھا کر قومی معیشت میں بھرپورحصہ ڈال سکیں۔
انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ ایس ایم ای فنانسنگ کے حجم کو بڑھانے اورمتعلقہ علاقوں میں ایس ایم ای سیکٹر کو فروغ دینے سے متعلق وزیراعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنائیں۔سی ای او سمیڈا نے بتا یا کہ اس اس سلسلے میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے ملک بھر کے مالیاتی اور صنعتی اداروں میں بینک آف پنجاب کی تیار کردہ ایس ایم ای فنانسنگ اسکیم کی تقلید کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ یہ سکیم 110,000 سے زائد افراد کو فائدہ پہنچا چکی ہے جن میں تقریبا 50 فیصد قرض دہندگان کم آمدنی والے کاروباری لوگ تھے۔سی ای او سمیڈا نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بھی سمیڈا کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران پاکستان بھر میں ایس ایم ایز تک کریڈٹ رسائی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیاہے۔
یہی وجہ ہے کہ سمیڈا کے بزنس پلان میں پورے پاکستان میں ایس ایم ای فنانس کے لیے ایکو سسٹم کی تشکیل اہم ترین ستون کے طور پر شامل ہے۔اسٹیٹ بنک آف پاکستا ن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نجم الثاقب نے اس موقع پر بتایا کہ سنٹرل بینک نے نظرثانی شدہ پروڈینشل ریگولیشنز کے تحت کمرشل بنکوں کو 50 ملین روپے تک کولیٹرل فری قرضے جاری کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ، جس سے قرض لینے والوں کے لیے فنانسنگ کی سہولت سے فائدہ اٹھانا آسان ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان اور سمیڈا کے ساتھ مل کر، صوبائی مالیاتی اداروں اوربنک آف پنجاب کے مابین ملاقاتوں کا اہتمام کریں گے تاکہ حکومت پنجاب کے ماڈل کے مطابق دیگر صوبوں میں بھی فنانسنگ سکیمیں تشکیل دی جا سکیں۔یاد رہے کہ ایس ایم ای فنانسنگ کے فروغ کیلئے مذکورہ مشاورتی اجلاسوں کے سلسلے کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی صدارت میں گزشتہ ہفتے منعقد ہوا تھا جس میں انہوں نے ایس ایم ایز کے لیے فنانس تک رسائی بڑھانے کے لیے مربوط قومی کوششیں بروئے کارلانے پر زور دیا تھا اور سمیڈا کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملک بھر میں ایس ایم ایز کو قرضوں کی آسان فراہمی ممکن بنانے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی آسان کاروبار سکیم کی طرز پر سکیمیں متعارف کرنے پر دیگر صوبائی مالیاتی اداروں کو تیار کرے۔








