وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا جمرود میں 132کے وی گرڈ سٹیشن کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب

جمرود ۔ 23 مئی (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا واحد دور ہے جس میں ترقیاتی منصوبے شروع اور مکمل ہوئے، ہم صرف وعدے نہیں کرتے بلکہ کام کرتے ہیں، فاٹا کے انضمام کے حوالہ سے ایسا حل چاہتے ہیں جس کا فائدہ یہاں کے عوام اور پاکستان کو ہو، اور یہ ایک عمل کے ذریعے مکمل ہو …

جمرود ۔ 23 مئی (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا واحد دور ہے جس میں ترقیاتی منصوبے شروع اور مکمل ہوئے، ہم صرف وعدے نہیں کرتے بلکہ کام کرتے ہیں، فاٹا کے انضمام کے حوالہ سے ایسا حل چاہتے ہیں جس کا فائدہ یہاں کے عوام اور پاکستان کو ہو، اور یہ ایک عمل کے ذریعے مکمل ہو گا، پاکستان میں جہموری عمل کا تسلسل جاری رہے گا تو ملک ترقی کرے گا، انتخابات میں عوام کے ووٹ سے جو فیصلہ آئے گا وہ پاکستان کے حق میں ہو گا، ترقی کا سفر جاری رکھیں گے۔ وہ بدھ کو یہاں 132کے وی گرڈ سٹیشن کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی، رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی اور علاقہ کے عمائدین بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے جمرود آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے، اس سے پہلے بھی تقریباً تین ماہ قبل فاٹا میں کھیلوں کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج خوشی اس بات کی ہے کہ ایک ایسی سکیم جو اسی حکومت کے دور میں شروع اور مکمل ہوئی ہے اس کا آج افتتاح کیا گیا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک حکومت کے دور میں سکیم شروع اور مکمل بھی ہو، یہ سکیم پیسکو نے مکمل کی ہے جس پر 78 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ انہوںنے گرڈ سٹیشن کیلئے زمین کی فراہمی پر مقامی افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان منصوبوں سے علاقہ میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور مجھے امید ہے کہ بجلی کے حوالے سے مقامی لوگوں کی مشکلات کم ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابتداءہے، فاٹا میں ترقی کا سفر جاری رکھیں گے۔ انہوںنے کہا کہ پیسکو 200 ارب سے زائد کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، مقامی لوگ بجلی کی مد میں ہونے والے لائن لاسز کو روکنے میں مدد کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں اتنی بجلی ہے کہ ہر گھر کو مل سکتی ہے تاہم بجلی چوری کی صورت میں لوڈ شیڈنگ جیسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید خبریں