وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات، دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور کرغزستان نے باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ پرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں …

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور کرغزستان نے باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ پرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے مابین وزیر اعظم ہائوس میں وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، دو طرفہ مذاکرات میں وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت اہم وفاقی وزرا اور سینئر سرکاری حکام نے کی۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی "وژن سینٹرل ایشیا” پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات جو تاریخی روابط، مشترکہ تہذیب و اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں، کے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنمائوں نے جاری باہمی تعاون بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دورہ کے دوران دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر موثر عمل درآمد کے ذریعے2027۔2028 تک دو طرفہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنمائوں نے ملاقات کے دوران 28-29 جولائی 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ کرغزستان ۔پاکستان مشترکہ سرکاری کمیشن کے پانچویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے توانائی کے شعبہ میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کاسا 1000 منصوبے پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ یہ منصوبہ علاقائی توانائی تعاون میں اہم سنگ میل اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔ دونوں رہنمائوں نے جمہوریہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان محفوظ، مستحکم و دیر پا اور کثیر الجہتی روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں دو طرفہ اور علاقائی تجارت میں مزید اضافہ کے لئے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان "کواڈریلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ” کے تحت روڈ کوریڈور کے فعال ہونے پر اظہاراطمینان کیا گیا۔

مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے رہنمائوں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قانون باالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنمائوں نے پرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

دونوں رہنمائوں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967ء سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو ، کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی ، معدنیات، تجارت، تعلیم، قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان اور جمہوریہ کرغزستان کےصدر نے شرکت کی۔

قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر کا وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم ہائوس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کےصدرصادر ژپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنمائوں کے درمیان دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنمائوں نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو بھی کی جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی۔