نیویارک ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر نہ آنے کی صورت میں اقوام عالم کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، ہم کشمیریوں کے حق آزادی اور خود مختاری کےلئے آخری سانس تک لڑیں گے، بھارت مقبوضہ کشمیر …
وزیراعظم عمران خان کاجمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
نیویارک ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر نہ آنے کی صورت میں اقوام عالم کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، ہم کشمیریوں کے حق آزادی اور خود مختاری کےلئے آخری سانس تک لڑیں گے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر کرفیو ختم کرے، قیدیوں کو رہا کرے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا بنیادی حق خود ارادیت دیا جائے، اقوام متحدہ کشمیری عوام کے ساتھ اپنا وعدہ نبھائے، بھارت اسلامی دہشت گردی کا واویلا کرکے دنیا کو مزید گمراہ نہیں کر سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بہت اہم ہے جس کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کےلئے یہاں آیا ہوں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70ہزار پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں اور پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ 80 کی دہائی میں پاکستان نے روس کے خلاف افغانوں کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیا، اس وقت کے مجاہدین کو پاکستان میں تربیت دی گئی جس کے لئے فنڈز مغرب نے دیئے، روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا، نائن الیون کے بعد امریکہ کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑی، میں نے اس وقت کی حکومت سے کہا تھا کہ امریکہ کی جنگ میں شامل نہ ہوں، امریکی جنگ کا حصہ بننے کے بعد دہشت گرد پاکستان کے خلاف بھی ہو گئے، نائن الیون میں کوئی بھی پاکستانی شامل نہیں تھا، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں۔ انہوں نے عالمی مبصرین کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان جا کر دیکھیں کہ وہاں پر کوئی دہشت گرد کیمپ نہیں۔







