وزیراعظم عمران خان کا بجلی کی پیداوار کے 310 میگاواٹ کے منصوبوں کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 15 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک طویل المدتی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں ترقی نہیں کرسکا، پن بجلی کی بجائے مہنگی بجلی کے منصوبے شروع کئے جاتے رہے، موجودہ حکومت کے 14 ماہ میں معیشت مستحکم ہوئی ہے ، روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ ترقی کر رہی ہے ، کرنٹ اکائونٹ …

اسلام آباد ۔ 15 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک طویل المدتی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں ترقی نہیں کرسکا، پن بجلی کی بجائے مہنگی بجلی کے منصوبے شروع کئے جاتے رہے، موجودہ حکومت کے 14 ماہ میں معیشت مستحکم ہوئی ہے ، روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ ترقی کر رہی ہے ، کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی اور برآمدات میںاضافہ ہوا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، بجلی چوری کی روک تھام سے ایک سال میں 120 ارب روپے اضافی وصول کئے گئے ہیں، ہوا سے بجلی کی پیداوار نہ صرف ماحول دوست بلکہ سستی بھی ہوگی، گلوبل وارمنگ سے پاکستان متاثر ہوسکتا ہے، اس مسئلہ پر توجہ دینا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں ہوا سے بجلی کی پیداوار کے 310 میگاواٹ کے منصوبوں کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماحول دوست منصوبوں کے معاہدوں سے انہیں دلی خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے اور اس نے 30 سال میں 30 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا جو ایک معجزہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں پر مختصر مدت کی منصوبہ بندی کی جاتی رہی اور جو بھی حکومت آئی اس نے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے انتخابات میں کامیابی کے لئے مختصر مدت کی حکمت عملی اپناتے ہوئے کروڑوں روپے خرچ کردیئے۔ برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی ہم بنا رہے ہیں، جب تک سستی بجلی پیدا نہیں کریں گے اور صنعتی ترقی نہیں ہوگی تو آمدنی میں اضافہ کیسے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سنگا پور کی برآمدات 300 ارب ڈالر ہیں۔ 60ء کی دہائی میں ہم ترقی میں آگے تھے لیکن طویل المدتی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں پن بجلی کی بجائے ہم نے مہنگی بجلی بنائی ۔ انہوں نے کہاکہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے یہ سستے منصوبے ہیں جن کی قیمت 5 سینٹ سے بھی کم ہوگی اور اس سلسلہ میں ہم 2030ء تک 60 فیصد کا ہدف جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ گلوبل وارمنگ ایک بڑا چیلنج ہے اور اس سے متاثرہ ممالک میں پاکستان 8 ویں نمبرپر ہے ۔ ہمارے ملک میں پانی کا مسئلہ پہلے ہی موجود ہے، ہمیں اس طرف بھی توجہ دینی ہے۔ درآمدی فیول کی بجائے ہوا سے سستی بجلی بنے گی تو اگر روپے کی قدر میں بھی کمی ہوئی تو مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف اور بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کے شکر گزار ہیں جو اس میں معاونت کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے پہلا سال حکومت کے لئے مشکل سال تھا اور 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ کے خسارے کا ہمیں سامنا کرنا پڑا اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی اتنے نہیں تھے کہ روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کے لئے استمعال کرتے۔

مزید خبریں