وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے بلکہ ہم اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبے کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو، غربت کے خاتمہ، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں …

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے بلکہ ہم اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبے کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو، غربت کے خاتمہ، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کے کامیاب تجربے سے استفادہ کریں گے۔ وہ جمعرات کو دورہ چین کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان، چیئرمین ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطاءالرحمن اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کے آئندہ دورہ چین کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک ون محض چند پاور پلانٹس اور تین سڑکوں پر مشتمل تھا جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت، تعلیم، صحت، پانی کے منصوبوں، فنی تعلیم و سکل ڈویلپمنٹ، ٹرانسپورٹ، مین لائن ۔1 کی اپ گریڈیشن و دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک محدود وقت میں کثیر تعداد کو غربت کے دائرے سے نکالنے کا چین کا کامیاب تجربہ قابلِ تقلید ہے، حکومت غربت کے خاتمے کے لئے چین کے کامیاب تجربے سے استفادہ کرنا چاہتی ہے، زراعت، صنعت و دیگر شعبوں میں بھی چین کی مہارت سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے بلکہ ہم اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبے کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی بے مثال ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبے میں تعاون کا فروغ دورے کا اہم مقصد ہے، کوشش ہے کہ کم از کم 20 ہزار پاکستانی طلبہ کے وظائف اور ان کی چین میں جدید علوم میں تعلیم حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ بڑے شعبوں بشمول مائننگ، ہائی سپیڈ ریلوے، مینوفیکچرنگ، ایگریکلچر وغیرہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ جہاں ان جدید شعبوں میں چینی مہارت سے استفادہ کیا جا سکے وہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی عمل میں آئے۔

مزید خبریں

Leave a Reply