اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے بچاﺅ کیلئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد سے وائرس کا پھیلاﺅ کم کیا جا سکتا ہے، ملک میں جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں وباءکا دباﺅ بلند ترین سطح پر ہو گا، کورونا سے بچنے کیلئے گھر سے …
کورونا سے بچنے کیلئے گھر سے ماسک پہن کر نکلیں، بے احتیاطی بزرگوں اور دیگر افراد کی زندگی خطرے میں ڈال سکتی ہے ،وزیراعظم عمران خان کی کورونا وباءسے متعلق گفتگو
اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے بچاﺅ کیلئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد سے وائرس کا پھیلاﺅ کم کیا جا سکتا ہے، ملک میں جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں وباءکا دباﺅ بلند ترین سطح پر ہو گا، کورونا سے بچنے کیلئے گھر سے ماسک پہن کر نکلیں، بے احتیاطی بزرگوں اور دیگر افراد کی زندگی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کورونا وباءسے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے دوران ملک میں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کا مطلب کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں کمی ہے، لاک ڈاﺅن سے کورونا کبھی ختم نہیں ہوتا، امریکہ میں اس وباءسے ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں تاہم انہوں نے لاک ڈاﺅن ختم کر دیا، امیر ملک بھی اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ لاک ڈاﺅن مسئلہ کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ایس او پیز پر عملدرآمد سے ہی وائرس کا پھیلاﺅ کم کیا جا سکتا ہے، ماسک پہننے سے وائرس کے پھیلاﺅ میں 50 فیصد کمی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی گھر سے نکلیں تو ماسک پہن کر نکلیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وباءتیزی سے نہیں پھیلے گی تو ہسپتالوں پر دباﺅ بھی نہیں بڑھے گا، صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی سے اس وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں کورونا اپنی بلند ترین سطح پر ہو گا، ہماری کوشش ہے کہ اڑھائی ماہ میں صورتحال قابو میں رہے اور ملک کو مشکل صورتحال سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بزرگوں اور دیگر بیمار افراد کیلئے زیادہ خطرناک ہے، عام لوگ اس بیماری کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے اور ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرتے، اگر ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو ہم اپنے بزرگوں اور دیگر افراد کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں، حکومت نے ہر شعبہ کیلئے ایس او پیز جاری کئے ہیں، ان پر سنجیدگی سے عمل کریں، اگر ابھی احتیاط نہ کی تو خود کو مشکل صورتحال میں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے آخر تک آکسیجن سے لیس ایک ہزار بیڈز کا بندوبست کر لیں گے، پاک نگہبان ویب سائٹ پر تمام شہروں میں بیڈز کی دستیابی سے متعلق تمام اعداد و شمار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ سب لوگ اس صورتحال پر توجہ دیں گے، ان ایس او پیز پر سنجیدگی سے عمل کریں گے، ملک کو مشکل صورتحال سے بچائیں گے، جس طرح دیگر ممالک میں صورتحال ہے، برازیل میں اس وباءسے روزانہ 1500 اور امریکہ میں 2 ہزار کے لگ بھگ افراد مرتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں تین ماہ میں تقریباً 2 ہزار افراد جاں بحق ہوئے ہیں، پاکستان امریکہ اور یورپ کی طرح اس وباءسے متاثر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جولائی تک اس وباءسے پیدا ہونے والی ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہوں گے، ہماری پوری کوشش ہے کہ ملک کو مشکل صورتحال سے بچایا جائے۔









