نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے کہیں گے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی اجازت دینا بہت خطرناک ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے اور اسے مداخلت کرنی چاہئے، مبصرین مقبوضہ کشمیر بھجوائے جائیں۔ دی نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے …
وزیراعظم عمران خان کی دی نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر سے ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے کہیں گے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی اجازت دینا بہت خطرناک ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے اور اسے مداخلت کرنی چاہئے، مبصرین مقبوضہ کشمیر بھجوائے جائیں۔ دی نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وہ جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ سے کہیں گے کہ وہ مداخلت کرے۔ وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کی مشکلات کے بارے میں دنیا کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں فوجی محاصرے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ بہت زیادہ غلط ہو سکتا ہے، اگست میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی دیرینہ خود مختاری کو ختم کرکے ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا، لاکھوں لوگوں کو ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس کی سہولت سے محروم جبکہ وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا، اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا جو کہ ایک طویل عرصہ سے اختلافات کے شکار ہیں۔ متنازعہ سرحد کے قریب 10 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر دیا گیا ہے جو کہ جنوبی ایشیاءکا کشیدہ ترین فلیش پوائنٹ ہے ، دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں دو جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ اس پر بات نہیں کرتا تو اس پر اور کون بات کرے گا۔ مقامی حکام کے مطابق گذشتہ 2 ماہ کے دوران بھارتی فورسز نے منتخب نمائندوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گھیر لیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر منطقی سلوک کر رہا ہے جو کہ اس کے اپنے طویل مدتی مفادات کے خلاف ہے، تکبر لوگوں کو عقل استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ بالکل ایسے ہی ہو گا، یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے، جس وقت وہ کرفیو اٹھائیں گے اس وقت برا قتل عام ہونے والا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ سے خطاب کے دوران ایسا کچھ کرنا چاہتے ہیں تاہم دنیا اس سے واقف ہو گی کیونکہ مجھے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ہے۔







