وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سمگلنگ کی روک تھام، ذخیرہ اندوزی اور ٹڈی دل خاتمے کے حوالے سے جائزہ اجلاس

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سمگلنگ ملکی معیشت کے لئے ناسور، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ترین ایکشن ناگزیر ہے، اس کی روک تھام کے لئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جائیں، صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مزید موثر بنایا جائے، ٹڈی دل پر قابو پانے اور اس کے خاتمہ کے لئے مکمل تیاری …

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سمگلنگ ملکی معیشت کے لئے ناسور، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ترین ایکشن ناگزیر ہے، اس کی روک تھام کے لئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جائیں، صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مزید موثر بنایا جائے، ٹڈی دل پر قابو پانے اور اس کے خاتمہ کے لئے مکمل تیاری کی جائے، اس سلسلے میں فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سمگلنگ کی روک تھام، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاو¿ن اور ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضال اور سینئر افسران شریک ہوئے۔ سمگلنگ کی روک تھام اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن، خصوصا ذخیرہ اندوزی کے خلاف متعارف کرائے جانے والے آرڈیننس کی بدولت اور دیگر اقدامات مثلاً سرحدیں سیل کئے جانے کی وجہ سے سمگلنگ میں نمایاں کمی کے حوالے سے شرکاءکو بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمگلنگ ملکی معیشت کے لئے ناسور ہے۔ اسی طرح ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ترین ایکشن نا گزیر ہے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کرکے ان کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ئیں دی جائیں تاکہ ایسی روش کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیاءکی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ناجائز اضافے کا بوجھ غریب عوام برداشت کرتے ہیں۔ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی نشاندہی اور اس کی روک تھام کے لئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ محکمے اپنے دیانتدار اور فرض شناس افسران کو ایسی جگہوں پر تعینات کریں جہاں سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کا خدشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مزید موثر بنایا جائے۔ صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے اور کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔ ملک میں گندم کی فراہمی، آئندہ سال گندم کی حصول کے ہدف، کاشتکاروں کو باردانے کی فراہمی کے حوالے سے شرکاءکو بریفنگ دی گئی۔ وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاسکو اور پنجاب حکومت کے گندم کے حصول کے لئے بروقت اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں دوسرے صوبوں کو گندم کے حصول کے لئے موثر اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ پچھلے سال 40 لاکھ ٹن گندم حاصل کی گئی۔ اس سال کا ہدف 82 لاکھ ٹن ہے۔ گندم کے حصول میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے مگر حالیہ بارشوں کی وجہ سے مشکلات درپیش آئیں۔ وزیراعظم نے گندم کے ہدف کے بروقت حصول اور ملک میں گندم اور آٹے کی عوام الناس کے لئے فراہمی کو ہر صورت ممکن بنانے کے لئے ایک جامع اور موثر حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس امر پر مسلسل اور بھرپور توجہ مرکوز رکھی جائے۔ شرکاءکو ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے ملک میں جاری ایمرجنسی کے تناظر میں اب تک کئے جانے والے اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے صحراو¿ں میں ہوائی جہاز اور کھیتوں میں مشینوں کے ذریعے سپرے سے متعلقہ معاملات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے چین سے جہاز اور مشینری منگوائی گئی ہے مگر اس ضمن میں مزید جہاز اور مشینری درکار ہیں۔ اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے مشینری کا بروقت حصول سست روی کا شکار ہوا جس کا فوری ازالہ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے بعد ٹڈی دل کو ملک کا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹڈی دل پر قابو پانے اور اس کے خاتمے کے لئے مکمل تیاری اور اس حوالے سے ہر قسم کی رکاوٹ اور مشکلات کو فوری دور کیا جائے۔ وزیراعظم نے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے درکار فنڈز کی فوری فراہمی اور جامع حکمت عملی پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے ملک میں پہلے ہی ایمرجنسی نافذ ہے، اس سلسلے میں فنڈز کی فراہمی یقینی بناءجائے گی۔

مزید خبریں