اسلام آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا گیا ہے، خطرہ ابھی موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے، محرم الحرام میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کراچی میں ہونے والی تباہی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت …
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کا اجلاس
اسلام آباد ۔ 28 اگست (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا گیا ہے، خطرہ ابھی موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے، محرم الحرام میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کراچی میں ہونے والی تباہی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کرے گی، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندیاسد عمر، وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داو¿د، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور صوبائی وزرائے اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے اقدامات، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور کوارنٹین اسٹرٹیجی پر عملدرآمد، مختلف شعبوں خصوصاً سیاحت کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی حکمت عملی، مائیکرو سمارٹ لاک ڈاو¿ن اور ہوائی شعبے کے حوالے سے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو کورونا کے پھیلاو¿ کی مجموعی صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے عالمی اور علاقائی ممالک اور پاکستان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا سے بچاو¿ کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور حکومتی حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں بیرونی دنیا اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کی نسبت کورونا کے حوالے سے حالات میں واضح بہتری پائی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر اقدامات کی بدولت کورونا پازیٹیویٹی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ اجلاس کو محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ایس اوپیز پر عمل درآمد پر بریف کیا گیا۔ اجلاس میں بہتر حالات کے پیش نظر سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے روڈ میپ، سکولوں میں حفاظتی انتظامات اور ایس او پیز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا کی بہتر صورتحال پر این سی او سی، میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، صوبائی حکومتوں اور دیگر تمام متعلقین کو مبارکباد دی اور کہا کہ موثر کوارڈینیشن اور جامع حکمت عملی کی بدولت کورونا کے خلاف کامیابی نصیب ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی کاوشوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاو¿ کو روکا گیا ہے تاہم ابھی خطرہ موجود ہے جس کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے۔ محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے ضمن میں وزیرِ اعظم نے ماسک و دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر خاص طور پر زور دیا۔ محرم الحرام کے دوران تعاون پر وزیرِ اعظم نے علمائے کرام ، ذاکرین اور مذہبی رہنماو¿ں کی جانب سے تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماو¿ں نے کورونا کے خلاف جنگ میں جس تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے کراچی کے حالات پر خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والی تباہی اور اس کے نتیجے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور اس ضمن میں تمام وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے طویل المدتی پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔ وہ آئندہ چند روز میں خود کراچی جائیں گے اور حالات کا جائزہ لیں گے۔ سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں ، سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ 15ستمبر کو سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے سات ستمبر کے اجلاس میں حتمی فیصلہ لیا جا سکے۔ اجلاس میں کورونا کی بہتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرون ملک ہوائی سفر کے حوالے سے ہیلتھ پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔









