وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد

اسلام آباد ۔ 5ستمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے بیرون ممالک سے پاکستانی پیسہ واپس لانے کے لئے وزیراعظم ہاﺅس میں خصوصی یونٹ قائم کرنے، وفاقی وزیر شفقت محمود کی سربراہی میں تعلیمی ٹاسک فورس کے قیام، تربیلا ڈیم توسیعی منصوبہ میں 25 ارب روپے کے نقصان کی تحقیقات، بنیادی تعلیم کے لئے یکساں نصاب متعارف کرانے، بچوں سے زیادتی اور چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لئے اقدامات …

اسلام آباد ۔ 5ستمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے بیرون ممالک سے پاکستانی پیسہ واپس لانے کے لئے وزیراعظم ہاﺅس میں خصوصی یونٹ قائم کرنے، وفاقی وزیر شفقت محمود کی سربراہی میں تعلیمی ٹاسک فورس کے قیام، تربیلا ڈیم توسیعی منصوبہ میں 25 ارب روپے کے نقصان کی تحقیقات، بنیادی تعلیم کے لئے یکساں نصاب متعارف کرانے، بچوں سے زیادتی اور چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لئے اقدامات ، بھیک مانگنے والے بچوں اور خواتین کے لئے خصوصی سینٹر کے قیام کی منظوری دیدی جبکہ وزیراعظم صوابدیدی فنڈ کے خاتمہ کے بعد 80 ارب روپے کی رقم پارلیمان کے پاس چلی جائے گی، تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، تمام سفارتخانوں کو تارکین وطن کی خدمت اور بیرون ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی قانونی معاونت کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سلسلے میں ہدایات جاری دی گئی ہیں۔ بدھ کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دی ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کابینہ کے فیصلوں بارے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کے صوابیدی فنڈز واپس کردیئے گئے ہیں جس سے 80ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، یہ رقم پارلیمان کے پاس چلی جائے گی۔80ارب روپے کی بچت وزیراعظم عمران خان کے صوابدیدی فنڈز استعمال نہ کرنے کے اعلان سے ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے تربیلا ڈیم کے نامکمل منصوبے کا افتتاح فیتہ کاٹنے کے لئے کیا گیا، اس سے 25ارب روپے نقصان کی خبر پر وزیراعظم عمران نے نوٹس لے لیا ہے اور وزیراعظم انسپکشن سیل کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کریں ۔

مزید خبریں