ڈیووس۔ 23 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال ہم نے بڑی مشکلات کا سامنا کیا، بڑے ہدف کو پانے کے لئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، ہماری حکومت کے لئے بڑا چیلنج ماضی کی حکومتوں کی طرف سے لیا گیا قرضوں کا انبار اور گردشی قرضہ تھا، حکومتی اقدامات سے معیشت بہتر ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ میں بہتری آ رہی ہے، غیر …
وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان بریک فاسٹ میٹ میں عالمی اقتصادی فورم میں شریک اہم کاروباری شخصیات سے گفتگو

مزید خبریں
ڈیووس۔ 23 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال ہم نے بڑی مشکلات کا سامنا کیا، بڑے ہدف کو پانے کے لئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، ہماری حکومت کے لئے بڑا چیلنج ماضی کی حکومتوں کی طرف سے لیا گیا قرضوں کا انبار اور گردشی قرضہ تھا، حکومتی اقدامات سے معیشت بہتر ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ میں بہتری آ رہی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہواہے، ہماری سمت درست ہے، پاکستان کے لئے اچھا وقت شروع ہونے والا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پاکستان بریک فاسٹ میٹ میں اہم کاروباری شخصیات سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا مقصد عالمی اقتتصادی فورم میں شریک دنیا بھر کی ممتاز کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول سے آگاہ کرنا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ڈیووس کے دورے کے حوالے سے شرکاء کو بتایا کہ ڈیووس میں قیام بہت ہی مہنگا ہے،ہماری حکومت اخراجات کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے میں اس دورے پر قومی خزانے سے بڑی رقم خرچ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ ڈیوس میں میرے قیام کے اخراجات اکرام سہگل اور محمد عمران نے برداشت کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیووس آنے والے وزرائے اعظم میں سے سب سے سستا دورہ میرا ہو گا۔ وزیر اعظم نے اپنی زندگی کی جدوجہد کے حوالے سے شرکاء کو بتایا کہ انہوں نے کرکٹ سے آغاز کیا اور کرکٹ میں بھی انہیں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑاجس سے انہوں نے بہت سیکھا۔ انہوں نے کہاکہ میں 9 سال کا تھا جب میں ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتا تھا ۔ پہلے ٹسیٹ میچ میں ہی مجھے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی اصل کامیابی برے حالت میں پر امید رہنا ہوتی ہے۔ اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیا کرتے ہیں۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے آپ کو مشکل حالات میں جیتنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ایک دیہی علاقے میں بین الاقوامی معیار کی نمل یونیورسٹی قائم کی جس کا الحاق بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ہے۔ انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت ہے لیکن انہیں مواقع مہیا نہیں کئے گئے۔ نمل یونیورسٹی میں آنے والے75 فیصد طلباء اردو میڈیم سکولوں سے آئے انہیں ایک سال انگریزی سیکھانے میں لگا۔ بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں 12،13 فیصد طلباء فرسٹ ڈویژن لیتے ہیں جبکہ نمل یونیورسٹی میں 55 سے 60 طلباء نے فرسٹ ڈویژن لی۔ جب پسماندہ علاقوں کے عوام کو مناسب مواقع ملتے ہیں تو وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور معاشرے کے نچلے طبقے کے افراد میں آگے بڑھنے کی بہت صلاحیت ہوتی ہے۔ میانوالی کی نمل یونیورسٹی میں طلبا کو بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ڈگری جاری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑاچیلنج مجھے اس وقت درپیش ہوا جب میری والدہ کینسر میں متلا ہوئیں تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال ہی نہیں ہے جہاں ان کا یا ان جیسے مریضوں کا علاج ہو سکے۔ والدہ کی تکلیف دیکھ کر میں نے عزم کیا پاکستان میں غریب مریضوں کے لئے کینسر ہسپتال بنائوںگا۔ اسی لئے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی ۔ کینسر ہسپتال کی تعمیر کے لئے 20 ڈاکٹروں سے مشاورت کی اور 19 ڈاکٹروں نے کہاکہ آپ پاکستان میں کینسر ہسپتال نہیں بنا سکتے اور اگر بنا بھی لیں تو مستحق مریضوں کا علاج کرنا ممکن نہیں کیونکہ کینسر کا علاج بے حد مہنگا ہے لیکن میں نے یہ چیلنج قبول کیا اور 70 کروڑ روپے سے یہ ہسپتال بنایا جہاں 75 فیصد مریضوں کا آج مفت علاج ہو رہا ہے اور مستحق مریضوں کے مفت علاج پر سالانہ 10 ارب خرچ کئے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تیسرا چیلنج مجھے اس وقت درپیش ہوا جب میں نے پاکستان کے عوام کی حالت بدلنے کے لئے سیاست کا آغاز کیا اور پاکستان تحریک انصاف کی صورت میں ایک تیسری سیاسی جماعت کھڑی کی اور اس وقت میرا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا کہ دو پارٹی نظام میں تیسری پارٹی کی کوئی گنجائش نہیں، جس طرح انگلینڈ اور امریکا میں بھی دو جماعتی نظام قائم ہے لیکن میں نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ وزیر اعظم شرکاء کو بتایا کہ اللہ تعالی نے انسان میں بڑی صلاحیتیں رکھی ہیں اور اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسانی اپنی ہمت اور حوصلے سے ناممکنات کو ممکن بنا سکتا ہے لیکن اکثر لوگ ہمت اور حوصلہ ہار دیتے ہیں اور جدوجہد ترک کر دیتے ہیں ۔








