وزیراعظم محمد شہباز شریف کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کیلئے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028ء تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کیلئے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028ء تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028ء تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمیڈا میں جاری اصلاحات کا محور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے، پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سمیڈا کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) میں ملکی معیشت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ سمیڈا میں جاری اصلاحات کا محور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو بااختیار بنانے سے ان علاقوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آئے گی اور ملک کی مجموعی ترقی کو فروغ ملے گا۔پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سمیڈا زیادہ سے زیادہ افراد کو کاروبار کے لیے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کرے اور عوام میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔انہوں نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے قیام کے لیے فیزیبلٹی سٹڈیز شعبہ جات کے ماہرین سے تیار کروائی جائیں اور انہیں مقامی زبانوں میں بھی دستیاب بنایا جائے تاکہ ملک بھر کے خواہش مند کاروباری افراد ان سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028ء تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو سمیڈا میں جاری اصلاحات اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سمیڈا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار قائم کرنے کے خواہش مند افراد کو تربیت فراہم کرنے اور کاروبار کے لیے مالی معاونت کے حصول کی غرض سے بینکوں سے رابطے میں سہولت فراہم کرے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ایم ای شعبے سے وابستہ افراد تک موثر رسائی یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں سمیڈا کے دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں۔شہریوں کی سہولت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے جس کے ذریعے لوگوں کو مقامی زبانوں میں معلومات اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی ای کامرس کمپنی علی بابا اور سمیڈا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں جس کے تحت دو سال کے عرصے میں دس ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو تربیت فراہم کی جائے گی۔ایس ایم ای ڈیجیٹل پورٹل کو مزید موثر اور کاروباری افراد کے لیے سہل بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔