وزیراعظم کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کیلئے کیو آرکوڈ استعمال کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں 300 فیصد اضافے پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے کیو آرکوڈ استعمال کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں ایک سال کے دوران 300 فیصد اضافے پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔

اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے کیو آرکوڈ استعمال کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں ایک سال کے دوران 300 فیصد اضافے پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منگل کو یہاں کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ پر اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی کیش لیس معیشت میں تبدیل کرنے کی پیش رفت پر معاشی ٹیم کی کارکردگی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے کیو آر کوڈ استعمال کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں ایک سال کے دوران 300 فیصد اضافہ کرنے پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے مرچنٹس کو کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم مزید موثر بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہونا اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بینک اور مالیاتی ادارے کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنایا جائے۔ وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے سراہا۔ اجلاس میں کیش لیس اکانومی کے لیے اقدامات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی جس کے مطابق جون 2025ء سے جون 2026ء تک ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں موصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 300 فیصد اضافہ سے 20 لاکھ، 3 ہزار ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹائز ہو چکی ہیں اور کیش ادائیگیاں 71 فیصد سے کم ہو کر صرف1 فیصد پر آ چکی ہیں۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ صارفین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ سے کی جا رہی ہیں۔ بریفننگ میں بتایا گیا کہ اس وقت موبائل بینکنگ ایپ صارفین کی تعداد 13 کروڑ، 70 لاکھ ہے، جولائی 2025ء سے جون 2026ء کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ریکارڈ کی گئیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے دوران ترسیلات زر کی 92 فیصد رقوم ڈیجیٹل طریقے سے موصول ہوئی ہیں، کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن جاری ہے اور حتمی رپورٹ بمع سفارشات نومبر 2026ء میں پیش کی جائے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے ممبر بینکوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں بشمول راست نظام کے فروغ کیلئے اہداف دیئے ہیں۔