اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے انفارمیشن کمیشن کو مکمل فعال بنانے اور سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے اقوام متحدہ، یونیسکو سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ان اداروں کو گذشتہ 54 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت،کرفیو اور انسانی حقوق کی …
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں سمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے انفارمیشن کمیشن کو مکمل فعال بنانے اور سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے اقوام متحدہ، یونیسکو سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ان اداروں کو گذشتہ 54 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت،کرفیو اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں نظر نہیں آرہیں،کیا مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے شہری انسان نہیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق نظر انداز ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے،ملالہ یوسف زئی اور شرمین عبید چنائے کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم اور بربریت ،خواتین کی عصمت درری ،بچے اور بچوں سے سکول جانے کی سہولت چھیننا، ہسپتالوں کی بندش تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کا بھارتی عمل نظر نہیںآرہا ،کیا اس معاملے پر بھی کوئی ڈاکومنٹری نہیں بنتی ہے یا عالمی فورم پر یہ معاملہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے ، وزیراعظم عمران خان جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں کشمیریوں کا وکیل بن کر مقدمہ پیش کریںگے ، وفاق کی سطح پر اطلاعات تک رسائی کے لئے انفارمیشن کمیشن کے فعال ہونے سے غلط اطلاعات اورجعلی خبروں کی حوصلہ شکنی ہوگی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اطلاعات تک رسائی کے لئے قانون کے ذریعے شہریوں کو معلومات کے حصول کی ملکیت فراہم کی اس قانون کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔وہ جمعرات کو سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے زیر اہتمام بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں "انفارمیشن کمیشن کا ایک سال، اطلاعات تک رسائی قانون پر عمل درآمد کے
چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے سمینار سے خطاب کر رہیں تھیں ۔








