وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے متفقہ طور پر پر پیمرا اور وزارت اطلاعات سے کہا ہے کہ ٹی وی چینلز پر میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کو کوئی جگہ نہ دی جائے جبکہ کمیٹی نے اس معاملہ کو زیر بحث لانے کیلئے پیر کو اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں چینلز کے مالکان کی شرکت …

اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے متفقہ طور پر پر پیمرا اور وزارت اطلاعات سے کہا ہے کہ ٹی وی چینلز پر میرا جسم میری مرضی جیسے نعروں کو کوئی جگہ نہ دی جائے جبکہ کمیٹی نے اس معاملہ کو زیر بحث لانے کیلئے پیر کو اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں چینلز کے مالکان کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ عورت کو بااختیار بنانے کے حق میں ہیں تاہم کسی بے راہ روی کی اجازت نہیں دیں گے، مٹھی بھر عناصر کو پورے ملک کو یرغمال بنانے نہیں دیں گے، ہمارے معاشرے میں چادر اور چار دیواری کا تصور ہے جو اپنی بیٹی کیلئے سوچیں گے وہی دوسرے کی بیٹی کیلئے بھی سوچیں گے۔ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین میاں جاوید لطیف کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ناز بلوچ، مائزہ حمید، ندیم عباس، ذوالفقار علی بیہن، عثمان خان ترکئی، ناصر خان موسیٰ زئی، صائمہ ندیم، کنول شوذب، محمد اکرم چیمہ، جویریہ ظفر، آفتاب جہانگیر، سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات اکبر درانی، ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے حکام نے شرکت کی۔ آئندہ مالی سال 2020-21ءکے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے حوالہ سے بریفنگ ملتوی کر دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس سے قبل کمیٹی کا اجلاس 21 فروری کو طلب کیا گیا تھا تاہم محض ایک دن پہلے منسوخ کر دیا گیا۔ کمیٹی کے ایک ممبر کا پروڈکشن آرڈر اجلاس والے دن جاری ہوا ہے، دوسرے شہر سے وہ کیسے شریک ہو سکتا ہے۔ مائزہ حمید نے کہا کہ اگر اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا تو ہم بائیکاٹ کریں گے، بہتر ہے کہ پروڈکشن آرڈر جاری ہی نہ کئے جائیں۔ ناصر موسیٰ زئی نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کا اجراءہونا چاہئے۔ کنول شوذب نے کہا کہ اجلاس طلب کرنے کیلئے ایک ہفتہ پہلے نوٹس ملنا چاہئے، ہم اپنی مصروفیات چھوڑ کر آئے ہیں۔ انجینئر عثمان ترکئی نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کم وقت میں جاری کرنا زیادتی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ اگر ممبران کے پروڈکشن آرڈر بروقت جاری نہ ہوئے تو مشاورت کرکے لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ ناز بلوچ نے کہا کہ اجلاس عجلت میں طلب کیا گیا ہے، پروڈکشن آرڈر کے اجراءمیں تاخیری حربے نہیں ہونے چاہئیں۔ اکرم چیمہ نے کہا کہ اجلاس کی اطلاع ایک روز پہلے ملی، ہمیں اس پر قرارداد لانی چاہئے۔ چیئرمین نے کہا کہ ہر ممبر کا استحقاق ہے کہ اس کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوں اور اجلاس میں بھی اس پر اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری اسمبلی کو طلب کرتے ہیں تاکہ وہ آ کر بتائیں کہ اجلاس طلب کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا گیا۔ جویریہ ظفر نے کہا کہ اجلاس کے انعقاد کے حوالہ سے کم از کم پانچ روز پہلے آگاہ کیا جانا چاہئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوئی وزیر یا سیکرٹری اجلاس میں اپنی شرکت کنفرم کرکے نہیں آئے گا تو اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ محمد اکرم چیمہ نے کہا کہ سیکرٹری اسمبلی کو طلب کیا جائے ورنہ وہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے اور آئندہ اجلاس میں شریک بھی نہیں ہوں گے اس پر اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کرکے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سیکرٹری اسمبلی خالد لودھی کو طلب کیا گیا جن کی آمد پر اجلاس دوبارہ شروع کیا گیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا چیئرمین نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کے ممبران ایک کنبہ ہیں، اجلاس میں عجلت میں طلب کرنے کا تمام ممبران کو گلہ ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وہ 10 سال اس اسمبلی کی رکن رہی ہیں، انہیں کمیٹیوں کی اہمیت کا اندازہ ہے، یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اجلاس طلب کیا جائے تو وزارت کی جانب سے لیت و لعل سے کام لیا جائے، اجلاس کیلئے جو تاریخ مقرر ہو اس پر اجلاس ہونا چاہئے، گذشتہ طلب کیا گیا اجلاس ایک روز قبل منسوخ کئے جانے کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ہم سب عوامی نمائندے ہیں، کمیٹی اپنا ایک میکنزم اور کیلنڈر بنائے تاکہ اس کے اجلاسوں میں شرکت یقینی ہو، پارلیمنٹ کے اندر نہ ہونے کی وجہ سے کمیٹی کے اجلاس آپس میں ملاقات کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی مصروفیات کی وجہ سے وہ بعض اوقات اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتیں، اس وقت بھی وہاں سے اٹھ کر آئی ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کمیٹی کے ایجنڈے کو بائی پاس کرکے کوئی اور کام کروں، مجھے بتایا گیا تھا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے حوالہ سے بریفنگ ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس ایوان جس کا میں حصہ رہی ہوں ان کے ارکان کے وقار میں کمی کروں۔ چیئرمین نے کہا کہ آپ سے یہی توقع تھی۔ سیکرٹری اسمبلی اور سیکرٹری وزارت آپس میں مل بیٹھ کر اجلاس کی تاریخوں کا تعین کر لیں، اگر کہیں اہم اجلاس ہے تو اس میں معاون خصوصی ضرور شریک ہوں۔ اس موقع پر سیکرٹری کمیٹی نے بتایا کہ 27 فروری کو اجلاس بلانے کی استدعا آئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے کمیٹی کے اجلاس کی منظوری کیلئے سپیکر کو سمری بھجوائی۔ اس پر سیکرٹری اسمبلی نے بتایا کہ سپیکر کی جانب سے یہ احکامات ہیں کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس اسمبلی اجلاس کے دوران ہونے چاہئیں، اس لئے اجلاس اگر چیئرمین کمیٹی کی طرف سے طلب کیا جائے تو اس کی منظوری لی جاتی ہے، جب تک یہ احکامات موجود ہیں ان پر ہم عمل کریں گے۔ چیئرمین نے کہا کہ اگر سیشن کے دوران کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتا ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، اگر ساری کمیٹیوں کیلئے یہ رولز ہیں تو ہمیں بھی اسی طرح چلنا ہے تاہم اجلاس طلب کرنے کی اطلاع ایک روز پہلے نہیں ہونی چاہئے۔ ناز بلوچ نے کہا کہ اس کمیٹی میں میڈیا سے متعلق اہم ایشوز زیر بحث لائے جاتے ہیں اس لئے اس کو سیشن سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے رکن آفتاب جہانگیر نے کہا کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں پر جس کا جسم اس کی مرضی ضرور ہے لیکن خدارا یہ باتیں چینلز پر بیٹھ کر نہ کی جائیں، دو دن پر چینلز پر یہی کچھ چل رہا ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ اگر اسمبلی اجلاس کیلئے کسی ممبر کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جاتے ہیں تو کمیٹیوں کیلئے بھی جاری کئے جانے چاہئیں یا پھر اس حوالہ سے رولز ہی ختم کر دیئے جائیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایک روز قبل اگر اجلاس کی اطلاع دی جائے گی تو اس میں شرکت مشکل ہوتی ہے، سیکرٹری اسمبلی اس کا تدارک کریں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر جمعہ کو کمیٹی کے رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کئے گئے تو وہ اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے۔ سیکرٹری اسمبلی نے کہا کہ اجلاس عجلت میں بلانے کا معاملہ سپیکر کے علم میں لائیں گے، پروڈکشن آرڈر کے اجراءکیلئے درخواست 5 مارچ کو ملی، اسی روز اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے گئے۔ چیئرمین نے کہا کہ اہم ایشوز پر آئندہ اگر کمیٹی روم دستیاب نہ ہوئے تو ہم اپنا اجلاس گیٹ پر کریں گے اور ٹی اے ڈی اے بھی نہیں لیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ مادر پدر آزاد رہ کر آگے نہیں بڑھ سکتا، کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ہماری مذہبی اقدار تباہ ہوں، پاکستان کا آئین ہر شخص کو بنیادی حقوق کے تحت آزدای اظہار رائے دیتا ہے اور یہی آئین اسلام کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مذہب قرار دیتا ہے، قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہ کرنے کی قدغن لگاتا ہے، دو روز قبل ایک چینل پر ہونے والے معاملہ پر چینل کے مالکان سے بات کی ہے اور اس چینل کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے، یہ دائیں بازو یا بائیں بازو، بنیاد پرستی یا روشن خیالی کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حضرت فاطمة الزہرہ کی سیرت رول ماڈل ہے، ہمارے معاشرے میں چادر اور چار دیواری کا تصور ہے، اس سے باہر جا کر معاشرہ کو بے راہ روی کا شکار نہیں ہونے دیں گے، جو اپنی بیٹی کیلئے نہیں سوچ سکتی کسی دوسرے کی بیٹی کے بارے میں بھی نہیں سوچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر عناصر کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پورے ملک کو یرغمال بنائیں، حکومت کا اس پر کوئی معذرت خواہانہ نہیں بلکہ واضح مو¿قف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ہم کوشاں ہیں، عورت کو جہاں موقع ملا ہے اس نے بہترین کارکردگی دکھائی تاہم کسی کو بے راہ روی کی اجازت نہیں دیں گے۔ چیئرمین نے کہا کہ میڈیا پر میرا جسم میری مرضی جیسے جملے اور نعرے نہیں آنے چاہئیں، معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنے کیلئے طے شدہ ڈیزائن سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، حکومت کو ان چیزوں کو دیکھنا چاہئے، اس پر معذرت خواہانہ رویہ نہیں ہونا چاہئے، اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو اس سے معاشرہ میں تباہی ہو گی، جس معاشرہ میں بے حیائی ہو اس میں جرا¿ت و بہادری ختم ہو جاتی ہے، اس بارے میں آئندہ ہفتے اجلاس بلا کر اس میں میڈیا مالکان کو بھی طلب کرتے ہیں، کوئی مذہب بے حیائی کو فروغ نہیں دیتا۔ چیئرمین نے معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ممبران کی مشاورت سے میرا جسم میری مرضی کے حوالہ سے اٹھنے والے معاملہ پر پیر دن 2 بجے خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے۔