وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غربت مٹاؤ اتحاد کے ورچوئل افتتاح کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت اور احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ غربت کا خاتمہ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت پاکستان کا ایک بنیادی وژن ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار حکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غربت مٹاؤ اتحاد کے ورچوئل افتتاح کے …

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت اور احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ غربت کا خاتمہ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت پاکستان کا ایک بنیادی وژن ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار حکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غربت مٹاؤ اتحاد کے ورچوئل افتتاح کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے تقریر کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک نیا عالمی ادارہ ہے جسے ہر ممکن زاویوں سے غربت دور کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ نیٹ ورکنگ، معلومات کے اشتراک اور بریج بائنڈنگ کیلئے ایک فورم کے طور پر خدمات سر انجام دے گا۔ غربت مٹاؤ اتحاد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر تیجانی محمد بانڈے کا ایک اہم اقدام ہے۔ صدر جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیٹرز اور 30سے زائد ممالک کے سربراہان مملکت نے بھی اس تقریب میں خطاب کیا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سیکرٹری جنرل گیٹرز نائیجیرین صدر اور صدر ای سی او ایس او سی کے ہمراہ افتتاحی مقررین میں شامل تھیں۔ موجودہ کورونا وائرس جیسے وبائی مرض سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے مارچ میں لاک ڈاؤن کے چند روز کے اندر شروع کئے جانے والے پاکستان کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پر روشنی ڈالی جس کے تحت ملک بھر میں لاکھوں گھرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کی گئی اور اس سے 125ملین افراد کو ذریعہ معاش پہنچانے میں مدد ہوئی۔ ڈاکٹر نشتر نے اپنی تقریر میں کہا کہ 10 ہفتوں میں ہم نے 11 ملین خاندانوں کی مدد کی ہے جو ملک کی تاریخ میں انتہائی مشکل حالات میں اب تک کا سب سے زیادہ وسیع اور شفاف سماجی تحفظ نظام ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ احساس کیساتھ ہمارے تجربے نے ہمیں سماجی تحفظ کے متعلق سکھایا ہے، اسی وجہ سے ہم ضروت مندوں کی مدد کیلئے21ویں صدی کے ٹولز جیسے ڈیٹا اینالیٹکس، ادائیگیاں اور اعدادو شمار کے تحت احتساب کو استعمال کر رہے ہیں۔ خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سماجی تبدیلی کے ممکنہ مواقعوں پر زور دیا جن کے تحت اس بحران سے نکلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ موقع ایک نسل میں ایک مرتبہ ہی ملتا ہے کہ ایک بہتردنیا کی تعمیر کی جائے جو غربت، عدم مساوات اور موسمیاتی بحران کا خاتمہ کرے۔ مجھے امید ہے کہ یہ اتحاد اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔