وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،

اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرولئیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہانہ بنیادوں کی بجائے ہرپندرہ روزبعد نظرثانی کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعدنئے طریقہ کارکااطلاق یکم اگست سے ہوگا، اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعہ تین لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی منظوری بھی دیدی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل …

اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرولئیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہانہ بنیادوں کی بجائے ہرپندرہ روزبعد نظرثانی کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعدنئے طریقہ کارکااطلاق یکم اگست سے ہوگا، اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعہ تین لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی منظوری بھی دیدی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کویہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا،اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہانہ بنیادوں کی بجائے ہرپندرہ روزبعد نظرثانی کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی تین لاکھ ٹن ریفائن چینی کی درآمد سے متعلق تجویز کی منظوری دی گئی تاکہ آئندہ کرشنگ سیزن سے قبل چینی کی بفرسٹاک کوبرقراررکھا جاسکے اورچینی کی قلت سے محفوظ رہا جائے۔اجلاس میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں کیلئے ہر پندرہ روزکے بعد پلیٹ اوسط کی بنیادپر نئے طریقہ کاراختیارکرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نئے طریقہ کارکا اطلاق یکم اگست 2020ءسے ہوگا، اس طریقہ کارکے تحت ریفائنریز اورآئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تین ماہ کی منصوبہ بندی ،بہترانوینٹری انتظام وانصرام، سیلزکی بہتر رپورٹنگ اورسٹاک کی ضروریات، شفافیت، قیمتوں کی واضح صورت اورکسی ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی پرانحصارکم کرنے میں مدد ملے گی۔ موجودہ نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر ریفائنریز کو تیل صاف کرنے سے قبل کی قیمت کے اعلان کی اجازت کے تحت ہوتاہے تاہم اس کیلئے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت پی ایس اوکے گزشتہ مہینوں کی حقیقی اوسط درآمدی قیمتوں سے زیادہ نہ ہوں۔ اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے چینی کی بفرسٹاک کوبرقراررکھنے کیلئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعہ چینی کی درآمد کی تجویز کاجائزہ لیاگیا اورسیکرٹری صنعت وپیداوار،سیکرٹری تجارت اورسیکرٹری خزانہ پرمشتمل کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ خریداری کے طریقہ کاراوردیگرقواعد کی روشنی میں تین لاکھ ٹن ریفائن چینی کی درآمد کی اجازت دیدی گئی۔ای سی سی نے کمیٹی کو خریداری کیلئے ترجیحی طریقہ کارکے ضمن میں لاءڈویژن سے رائے لینے اوراس بارے ای سی سی کورپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویزپربیجنگ میں حبیب بینک لمیٹڈ کے نمائندہ آفس کو برانچ بنانے اوراس کیلئے 300 ملین آربی ایم ریمیٹنس کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی تجویزپرکوروناوائرس کی وباءسے نمٹنے کیلئے صحت عامہ کے کارکنوں کومضبوط بنانے،انفیکشن کی شرح کو کم کرنے کے اقدامات اورملک بھرمیں کوویڈ 19 نیشنل ایکشن پلان کے اطلاق کیلئے 20 ملین ڈالر کے اے ایف ڈی قرضہ کیلئے ری لینڈنگ پالیسی سے استثنیٰ کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں سوات موٹروے کے آپریشنلائزیشن کیلئے 340 ملین روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے بالاگنجائش کے استعمال یا حکومت سے معاہدہ کے مطابق شدہ غیراستعمال شدہ گنجائش کواستعمال میں لانے کیلئے ایل این جی ٹرمینلز تک تیسری پارٹی کو رسائی دینے کی تجویزکا جائزہ لیا گیا اورغیراستعمال شدہ گنجائش کی فروخت کی منظوری دی گئی۔