اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل و انڈسٹری عبدالرزاق داﺅد اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کاروبار کرنے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور پاکستان کو آئندہ پانچ سال میں اس حوالہ سے عالمی درجہ بندی میں پہلے 50 ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے پرعزم ہے، پیداوار میں اضافہ، صنعتی شعبہ کی …
وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل و انڈسٹری عبدالرزاق داﺅد اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل و انڈسٹری عبدالرزاق داﺅد اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کاروبار کرنے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور پاکستان کو آئندہ پانچ سال میں اس حوالہ سے عالمی درجہ بندی میں پہلے 50 ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے پرعزم ہے، پیداوار میں اضافہ، صنعتی شعبہ کی ترقی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے ون ونڈو آپریشن کے تحت سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی سمیت توانائی اور سکیورٹی صورتحال کو بہتر کرنا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ایس ای سی پی، ایف بی آر، بی او آئی سمیت دیگر متعلقہ اداروں کا اشتراک ضروری ہے، وزیراعظم ملک میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالہ سے ہر ماہ خود اجلاس کی صدارت کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مو¿ثر اقدامات اٹھائے جائیں، جنوبی ایشیاءکی معیشت دنیا میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ہمسایہ ممالک چین، سعودی عرب، یو اے ای، کوریا، ملائیشیا پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بدھ کو وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل و انڈسٹری عبدالرزاق داﺅد اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور آسانیاں پیدا کرنے کیلئے مو¿ثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے جس کے نتائج بہت جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے ویزا کا حصول انتہائی آسان بنا رہے ہیں اور سفارتخانوں کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ متعلقہ اداروں کی معاونت سے سرمایہ کاروں کیلئے ویزا کا نظام آسان بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کیلئے انٹری ویزا 24 گھنٹوں میں جاری کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ آن لائن کر دیا گیا ہے، اس سلسلہ میں چار ممالک کو ابتدائی طور پر یہ سہولت حاصل ہو گی، اس کے بعد اس کا دائرہ کار 60 ممالک تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کیلئے الیکٹرانک گیٹ کی سہولت دیں گے اور ہر قسم کی مشکلات کو کم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے پیچیدہ علاقے ختم کر دیئے گئے ہیں، اب وہ کشمیر، گلگت، بلوچستان میں بھی سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ عبدالرزاق داو¿د نے کہا ہے کہ ہم ہر وہ اقدام کرنا چاہتے ہیں جس سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں معاونت ہو، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان کی رینکنگ کو بہتر کرنا ہے، آسان کاروبار سے متعلق پاکستان 136 ویں نمبر پر ہے، وزیراعظم نے پاکستان کی رینکنگ بہتر کرنے کا ہدف دیا ہے،نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن سے متعلق بھی آسانی پیدا کررہے ہیں، اب ون ونڈو کے ذریعے کمپنی کی رجسٹریشن ہوا کرے گی، پورٹل بنایا ہے جہاں کمپنی کو تمام سہولیات ایک جگہ ملیں گی، بجلی کنکشن اور لوڈشیڈنگ کے اوقات سے متعلق شکایات ہیں، وزارت توانائی کے ساتھ مل کر اقدامات کئے جا رہے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دیگر تفصیلات ویب سائٹ پر فراہم کریں گے، ورلڈ بینک کے انڈکس میں بہتری کےلئے پرامید ہیں، سرمایہ کار جنوبی ایشیاءکو دیکھ رہے ہیں، ہم ٹیکنالوجی پاکستان میں لانے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، پانچ سال میں ٹاپ 50 ممالک میں آنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے رواں سال کی رینکنگ بہتر کرنے کےلئے ٹاسک دیا ہے،31دسمبر تک ہم نے اقدامات اٹھائے ہیں، اپریل تک مزید اقدامات اٹھانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے پاکستان کاروبار کیلئے اوپن ہے۔ رزاق داو¿د نے کہا کہ کاروبار میں آسانی میں پاکستان کا عالمی درجہ بندی میں 136 واں نمبر ہے۔ رزاق داو¿د نے کہا کہ وزیراعظم نے آئندہ سال عالمی درجہ بندی میں پہلے ایک سو ممالک میں شامل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ہارون شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں شرح نمو زیادہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات دے رہے ہیں ۔ہارون شریف نے کہاکہ عالمی درجہ بندی میں پانچ سال کے بعد پہلے پچاس نمبر پر شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ہارون شریف نے کہاکہ کاروباری افراد کو 47 مختلف ٹیکس ادائیگی سے محدود کر کے 16 کر دی گئی ،ان میں سے زیادہ تر ٹیکس آن لائن ادا کیے جا سکتے ہیں۔ ہارون شریف نے کہا کہ نئے سرمایہ کاروں کو اب کاروبار کی رجسٹریشن کیلئے آسانی پیدا کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی سرمایہ کاری بورڈ ایف بی آر اور حکومت پنجاب کی سہولیات ایک ہی جگہ پر دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نئے کنکشن کے حصول کیلئے طریقہ کار کو آن لائن کیا گیا ہے، بارڈر پر سامان کی کلیئرنس کو تیز کرنے کیلئے کام جاری ہے۔ ہارون شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیاءکے خطہ میں اقتصادی ترقی کی شرح زیادہ ہے، ہماری ترجیحات ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو لانا ہے۔ انہوںنے کہا کہ چار ترجیحات کو سامنے رکھ کر کام کیا جا رہا ہے، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا پہلی ترجیح ہے۔ انہوںنے کہا کہ آئندہ پانچ سالوں میں ہمیں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں ٹاپ 50 میں آنا ہے، سرمایہ کاری بورڈ صوبوں کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاروں کو 37 قسم کی ادائیگیاں کرنی پڑتی تھیں، اب ادائیگیوں کو 16 تک کردیا گیا ہے۔ عبد الرزاق داﺅد نے کہا کہ ہمارے برآمد کنندگان کو ری فنڈ جلدی نہیں ملتا، ری فنڈ کلیم والوں کو پرامیسری نوٹ جاری کر رہے ہیں، ان کے کلیم کے تیسرے حصے کے پرامیسری نوٹ جاری کئے جائیں گے، برآمد کنندگان کے پیسے جیسے ہی آجائیں گے ان کو مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو لنک کر رہے ہیں، بی او آئی کے ساتھ ون لنک کے ذریعے تمام دنیا سے لوگ ایک کلک کے ذریعے پاکستان میں بزنس شروع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضہ کے نظام کو الیکٹرانک رجسٹری بنانے پر کام جاری ہے، یہ کام آئندہ تین ماہ میں مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویزہ فری ریجیم شروع کر دی گئی ہے، ویزہ کو آن لائن کردیا گیا ہے، ابتدائی طور پر چار ممالک کا ویزہ آن لائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کاروباری افراد گلگت، بلتستان، گوادر و کشمیر سمیت ملک میں ہر جگہ جا سکتے ہیں، آئل سیکڑ میں گلف ممالک سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، فوڈ سیکٹر میں بہت مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں حلال فوڈ کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے۔ ہارون شریف نے کہا کہ بھارت میں ادائیگیوں کا نمبر 13 ہے، ایس ای سی پی، ایف بی آر اور دیگر تمام کام بذریعہ پورٹل کئے جا رہے ہیں، پراپرٹی کو رجسٹرڈ کرنے کےلئے بھی ون ونڈو کی سہولت فراہم کردی گئی ہے، بجلی، گیس اور دیگر کنکشن ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت توانائی و نیپرا بجلی گیس نرخ کو مدنظر رکھتے ہوئے میکنزم بنا رہے ہیں، مواصلات کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تجارت بذریعہ بارڈر پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں مارکیٹ میں آنے سے اجارہ داریاں ختم ہوں گی، حکومتی اداروں کو بزنس نہیں کرنا چاہئے، بزنس پرائیویٹ سیکڑ کو کرنا ہے۔ ایک سوال پر ہارون شریف نے کہا کہ پراپرٹی رجسٹریشن میں 60 دن سے زیادہ لگتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی رجسٹریشن کا آن لائن نظام سے یہ کام 16 دنوں میں کیا جائے گا، آئندہ تین ماہ صوبوں میں کاروبار میں آسانی کیلئے اہم اقدامات کریں گے، بینکوں سے قرض کے حصول کو آسان بنانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد کیلئے ان لائن ویزہ کی سہولت شروع کی جا رہی ہے، غیر ملکی کاروباری افراد آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور بلوچستان جانے اور کام کرنے کی آزادی ہو گی ۔ہارون شریف نے کہا کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہیں۔








