اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے سرکاری کاروباری اداروں کی فہرست پرنظرثانی ،اس کا نئے سرے سے جائزہ لینے اورنجکاری کی فہرست میں ملکیت حکومت کے پاس رہنے اور بہترانتظام وانصرام کیلئے ادارہ یا ادارے نجی شعبے کے ذریعے چلانے کی نئی کیٹیگری کا اضافہ متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔سرکاری کاروباری اداروں بارے کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس …
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کاروباری اداروں بارے کابینہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے سرکاری کاروباری اداروں کی فہرست پرنظرثانی ،اس کا نئے سرے سے جائزہ لینے اورنجکاری کی فہرست میں ملکیت حکومت کے پاس رہنے اور بہترانتظام وانصرام کیلئے ادارہ یا ادارے نجی شعبے کے ذریعے چلانے کی نئی کیٹیگری کا اضافہ متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔سرکاری کاروباری اداروں بارے کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس پیرکویہاں کابینہ ڈویژن میں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقدہوا۔اجلاس میں سرکاری کاروباری اداروں کی لیکویڈیشن (کیش)، نجکاری، اقتصادی اصولوں کی بنیاد پر سرکاری ملکیت میں اسے برقراررکھنے اورسرکاری کاروباری اداروں کی مالیاتی کارگردگی کی بنیادپروزیراعظم کے مشیرکوتفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں سرکاری کاروباری اداروں کوبرقراررکھنے،اس کی نجکاری اور ان اداروں کی مجوزہ ری سٹرکچرنگ کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔وزیراعظم کے مشیرنے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس تک سرکاری کاروباری اداروں کی فہرست پرنظرثانی اوراس کا نئے سرے سے جائزہ لینا چاہئیے ،انہوں نے ہدایت کی اس فہرست میں ملکیت حکومت کے پاس رہنے اور بہترانتظام وانصرام کیلئے ادارہ یا ادارے نجی شعبے کے ذریعے چلانے کی ایک نئی کیٹیگری کا اضافہ متعارف کرایا جائے۔اجلاس میں سرکاری کاروباری اداروں کے مسودہ قانون کا بھی تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔وزیراعظم کے مشیرنے متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور وزارت قانون کے ساتھ مشاورت کرکے قانون کا مزیدجائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں زیادہ نقصان والے سرکاری کاروباری اداروں کے فورینزک آڈٹ کی تجویز کابھی جائزہ لیاگیا، وزیراعظم کے مشیرنے مجوزہ فورینزک آڈٹ بارے حتمی فیصلہ لینے سے قبل کابینہ کی کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں اے جی پی آر میں فورینزک آڈٹ کے ماہرین کی مناسب دستیابی،فورینزک آڈٹ معروف آڈٹ فرمز سے کرانے کی صورت میں اخراجات کے تخمینہ، فورینزک آڈٹ کی مجوزہ مدت اورنقصان میں جانے والے اداے ،جنکی فورینزک آڈٹ ہوگی، کی فہرست اوردیگرتفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کمپنیوں کے انتخاب میں متعلقہ وزارتوں اورڈویژنوں سے مشاورت کرنے کا مشورہ دیا اورکہاکہ کمپنیوں کو کسی خاص شعبہ پرتوجہ نہیں دینا چاہئیے۔وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ ان تجاویز کوکمیٹی کے آئندہ اجلاس میں حتمی شکل دی جائے۔









