وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی ڈاکٹر بابر اعوان کا قومی اسمبلی اجلاس میں صدارتی خطاب پر بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ قوانین میں اصلاح سے ادارے طاقتور ہوتے ہیں‘ پارلیمنٹ قانون سازی کرکے صورتحال بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے والوں کا حکومت میں کوئی ہمدرد نہیں‘ جس نے بھی یہ ریلیف عوام تک …

اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ قوانین میں اصلاح سے ادارے طاقتور ہوتے ہیں‘ پارلیمنٹ قانون سازی کرکے صورتحال بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے والوں کا حکومت میں کوئی ہمدرد نہیں‘ جس نے بھی یہ ریلیف عوام تک نہیں پہنچنے دیا اس کا احتساب ہوگا‘ چینی مافیا کے خلاف کارروائی کا آغاز وزیراعظم عمران خان کا کریڈٹ ہے‘ ماضی میں اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی‘ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر مفادات کے ٹکراﺅ کا قانون پاکستان میں نافذ کیا جائے‘ کورونا وائرس کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی نگرانی کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کو متحرک کریں گے‘ پاکستان واحد خوش نصیب ملک ہے جہاں کورونا وائرس کی صورتحال میں غذائی اجناس کی فراہمی برقرار رہی‘ خالی گلاس کی طرف توجہ دینے کی بجائے آدھے بھرے ہوئے گلاس پر توجہ دینی چاہیے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں صدارتی خطاب پر بحث سمیٹتے ہوئے بابر اعوان نے ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کورونا کے اوپر سیاست نہیں ہونی چاہیے تھی مگر جب ہوگی تو اس پر جواب بھی آتا ہے۔ پاکستان سٹیل ملز‘ پی آئی اے سمیت دیگر جو ادارے نجکاری کی فہرست پر ہیں وہ قانون کے مطابق شفاف ہوگا۔ یہ عمل پاکستان کے وسائل کے اضافے کے لئے استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی روایات پر عمل کیا جائے اور بات سننے کی بھی ہمت پیدا کرنی چاہیے۔ بات کہنا اور سننا بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں عمر دیکھ کر داخل کیا جارہا ہے۔ زندگی اور موت کا اللہ کو معلوم ہے۔ ہم سب کے گھروں میں بزرگ ماں باپ ہیں‘ اس بات کی مکمل تحقیقات کرائیں گے۔ پاکستان اس سوچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ چینی مافیا کو ہاتھ ڈالا ہے۔ یہ کریڈٹ عمران خان کا ہے۔ پاکستان میں چینی ملوں کے مالک بڑے بڑے خاندان ہیں۔ چینی کا کاروبار چٹوں پر ہوتا ہے گزشتہ پانچ سالوں میں 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ اس حکومت کو ایک سال دس ماہ ہوئے ہیں۔ اس دور میں جو سبسڈی دی گئی اس کے بارے میں رپورٹ پڑھ کر اعتراض کیا جائے۔ کسی ایسے دور کی مثال دی جائے کہ اس طرح کے سکینڈل کی تحقیقات کی گئی ہوں اور نو رتن نکالے گئے ہوں۔ یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے معاملے میں کوئی شخص خود منصف نہیں ہو سکتا۔ خود ہی چینی کے فیصلے کرنے والے پالیسی ساز حکمران بھی ہوتے ہیں۔ پہلی مرتبہ وزیراعظم عمران خان نے یہ قدم اٹھایا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے فوری طور پر مفادات کے ٹکراﺅ کا قانون پاکستان میں نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی این جی اوز دینی مدرسے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام چل رہا ہے اور یہ چلتا رہے گا۔ ان اداروں کے متاثرہ لوگوں کو شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کے مختلف آپشنز تھے۔ ان میں سے ایک سمارٹ لاک ڈاﺅن بھی ہے۔ بے شمار لوگ جو متاثر ہیں ہمیں افسوس ہے اور بے شمار لوگ خوف سے ٹیسٹ نہیں کراتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تجویز آئی ہے کہ پارلیمنٹ کی سپیکر کی سربراہی میں کورونا کمیٹی کو متحرک کیا جائے۔ اس کمیٹی کو متحرک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ہے کہ جس میں فوڈ چین برقرار رہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں یہ چین ٹوٹ گئی۔ لوگوں کو لندن میں ڈبل روٹی تک نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ خالی گلاس کی طرف سب توجہ دیتے ہیں حالانکہ آدھے بھرے ہوئے گلاس کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گند پھیلانے والا عظیم نہیں ہوتا۔ گند اٹھانے والا عظیم ہوتا ہے۔ اس طبقہ کے لئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شفاف انداز میں احساس پروگرام کے ذریعے رقم تقسیم ہوئی۔ پہلے کبھی بدعنوانی میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں غیر ملکیوں کا قبضہ ہوتا تھا سابق فاٹا کو پاکستان میں ضم کیا گیا اور ان علاقوں میں نوگو ایریاز تھے اب وہاں چپے چپے پر پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اب یہ علاقے ایبٹ آباد اور پشاور کے برابر آگئے ہیں۔ 4800 لوگ پولیس کی سروس میںآگئے ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں بدلنے والوں کے خون پر شبہات نہیں کرنا چاہیے۔ مری‘ نتھیا گلی اور گلیات میں ٹورازم کھولنے کے لئے ایس او پیز بنائے جارہے ہیں۔ ارکان کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے جو ادارے پاکستان کے اداروں کو روٹی کھلا سکتے ہیں ان کو کھولنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں کے نام بدل کر دیکھ لیا مگر حالات نہیں بدلے ۔ تھانے تھانے ہی رہے۔ ماضی میں غلام مصطفی کھر گورنر تھے تو پولیس ہڑتال پر چلی گئی۔ قوانین میں اصلاح سے ادارے طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ ایوان صورتحال بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا حکومت میں کوئی ہمدرد نہیں ہے۔ جس نے یہ ریلیف نہیں پہنچنے دیا اس کا احتساب ہوگا۔