اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ دولت مشترکہ کے تعاون سے پاکستان بین الاقوامی یوتھ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلامی تعاون تنظیم سے منسلک اسلامک کوآپریشن یوتھ فورم (آئی سی وائی ایف) کے 23 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، عالم دین مہدیوف کی قیادت …
,وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان کی اسلامک کوآپریشن یوتھ فورم کے 23 رکنی وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ دولت مشترکہ کے تعاون سے پاکستان بین الاقوامی یوتھ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلامی تعاون تنظیم سے منسلک اسلامک کوآپریشن یوتھ فورم (آئی سی وائی ایف) کے 23 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، عالم دین مہدیوف کی قیادت میں وفد روس، قزاخستان، ترکی، برطانیہ، آذربائیجان اور پاکستان کے ڈیلیگیٹس پر مشتمل تھا۔ معاون خصوصی نے رکن ممالک میں نوجوانوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کےلئے مثبت اقدامات پر آئی سی وائی ایف کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کےلئے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر رہا ہے تاکہ ہم ایک دوسرے کے تجربات اور معلومات سے استفادہ کر سکیں۔ اس حوالہ سے میں نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی بات کی ہے۔ معاون خصوصی نے کامیاب جوان پروگرام کے تحت ملک میں نوجوانوں کےلئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کےلئے 100 ارب روپے سے یوتھ انٹرپرینیور شپ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ وہ دوسروں کےلئے بھی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی سی وائی ایف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان وفود پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں نوجوانوں کی شمولیت کےلئے نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ فریم ورک کی تشکیل کےلئے اپنی تجاویز دیں۔ عالم دین مہدیوف نے کہا کہ ہم اپنے پاکستانی بہن بھائیوں سے تعاون کےلئے پرجوش ہیں، آئی سی وائی ایف کے پاکستانی نوجوان ارکان بہت پرجوش اور محنتی ہیں، ترکی سے تعلق رکھنے والی فدیلہ گرین نے تجویز دی کہ پاکستان میں آئی سی وائی ایف کے ارکان نوجوانوں سے مل کر گندگی کے خاتمہ کےلئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پر عمل درآمد کےلئے زیادہ وسائل کی نہیں بلکہ بہتر ٹیم ورک کی ضرورت ہے۔








