اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بتایا گیا ہے کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ملک میں کورونا وائرس کے انسداد کے لیے سپرے کے طریقہ کار اور ضرورت کے حوالے سے جلد ایک جامع حکمت عملی وضع کرے گی۔ صحت کی وفاقی اور صوبائی وزارتوں نے پانچ نکات پر اتفاق کیا ہے جن میں کوویڈ …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بتایا گیا ہے کہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ملک میں کورونا وائرس کے انسداد کے لیے سپرے کے طریقہ کار اور ضرورت کے حوالے سے جلد ایک جامع حکمت عملی وضع کرے گی۔ صحت کی وفاقی اور صوبائی وزارتوں نے پانچ نکات پر اتفاق کیا ہے جن میں کوویڈ 19 کے مشتبہ مریضوں کے انتقال کی ایک نظام کے تحت تحقیق، وائرس کی کسی علاقے میں عدم موجودگی کے بارے میں سروے، بعد از قرنطینہ کی حکمت عملی، وائرس سے بچاو¿ کے لیے چھڑکاو¿ اور ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے دستیاب بستروں و وینٹیلیٹرز کے بارے میں تازہ ترین معلومات کی فراہمی کا طریقہ کار شامل ہیں۔ این سی او سی کا اجلاس اتوار کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت یہاں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا نے این سی او سی کو صوبائی وزراء صحت کے ساتھ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وائرس سے بچاو¿ کے لیے سپرے کے طریقہ کار اور مقامات کے تعین کے لئے کوئی مناسب حکمت عملی نہیں ہے، اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کی وفات کی وجوہات معلوم کرنا ضروری ہے، اس مقصد کے لیے تشخیص کا یکساں طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر مامور ہیلتھ ورکرز کی حفاظت اور سہولت کے لیے بھی پروگرام دیا جائے گا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے تیار کردہ سسٹم کے بارے میں صوبوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک آن لائن سسٹم ہے جس کے ذریعے ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے بستروں اور وینٹیلیٹرز کی دستیابی کے بارے میں تازہ ترین معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ اس موقع پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے این سی او سی کو نئے تیار کئے گئے نظام کے متعلق پریزنٹیشن دی اور کہا کہ اس سے کورونا کے خلاف کوششوں کو مزید موثر بنانے کے لیے فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو اس نظام تک رسائی دے دی گئی ہے اور ان میں سے کچھ نے اپنے ڈیٹا کا اندراج شروع کر دیا ہے۔ اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے بستروں اور وینٹیلیٹرز کی دستیاب سہولیات کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لیے اس سسٹم تک صوبائی محکمہ صحت کے حکام کو رسائی دی جائے۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل سکیورٹی ڈاکٹر معید یوسف نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے کئے جانے والے پالیسی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے سی ای او لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد نے این ڈی آر ایم ایف کی جانب سے کورونا سے حفاظت کے لیے طبی سامان و آلات کی خریداری کے لیے فنڈنگ کی فراہمی کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں این سی او سی کے قومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمودالزمان، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر، وفاقی وزیر خسرو بختیار، وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 ڈاکٹر فیصل سلطان اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔








