اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):پاکستان کی صنعتی پالیسی کے تحت ٹیکس اصلاحات اور برآمدات کے فروغ سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی جبکہ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسن افضال، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نمائندگان اور دیگر اہم سٹیک ہولڈرز بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں …
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت ٹیکس اصلاحات اور برآمدات کے فروغ سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کا اعلیٰ سطحی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):پاکستان کی صنعتی پالیسی کے تحت ٹیکس اصلاحات اور برآمدات کے فروغ سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی جبکہ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسن افضال، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نمائندگان اور دیگر اہم سٹیک ہولڈرز بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد طویل المدتی اصلاحات کی تجاویز پیش کی گئیں۔ ایک اہم تجویز یہ تھی کہ سرمایہ کاروں کو ایک واضح اور قابل اعتماد روڈمیپ فراہم کیا جائے جو اصلاح شدہ صنعتی پالیسی کے تحت ہو۔
ذیلی کمیٹیوں نے تجویز دی کہ کارپوریٹ انکم ٹیکس کو موجودہ 29 فیصد سے کم کرکے آئندہ تین برسوں میں 26 فیصد تک لایا جائے۔ علاقائی مسابقت کا حوالہ دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے بتایا کہ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس ویتنام جیسے ممالک سے کہیں زیادہ ہے جہاں یہ زیادہ سے زیادہ 17 فیصد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس کا بوجھ کم کرنے سے کاروباری کارکردگی اور مجموعی اقتصادی سرگرمی بہتر ہوگی۔ایک اور بڑی تجویز سپر ٹیکس کے نظام کو معقول بنانے سے متعلق تھی۔ کمیٹیوں نے سفارش کی کہ سپر ٹیکس مجموعی منافع پر نہیں بلکہ صرف اضافی آمدن پر لاگو کیا جائے۔
مزید یہ تجویز دی گئی کہ سپر ٹیکس کو پانچ سال میں بتدریج کم کرکے پانچ فیصد تک لایا جائے اور اگر پانچویں سال میں ملکی پرائمری بیلنس مثبت ہو جائے تو چھٹے سال میں سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ یہ اقدامات کاروباری اداروں کو دوبارہ سرمایہ کاری کی ترغیب دیں گے اور کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔برآمدات کے فروغ کے لیے ذیلی کمیٹیوں نے نئی ڈی ایل ٹی ایل سکیم متعارف کرانے کی تجویز دی اور سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی پر زور دیا۔ ہارون اختر خان نے ریفنڈز کے عمل کو تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور تجویز کی توثیق کی کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر ایک مانیٹرنگ میکنزم کے تحت یقینی بنائی جائے۔
دیگر تجاویز میں صنعتی بجلی کے ٹیرف میں کراس سبسڈی کا خاتمہ اور برآمد کنندگان پر ایڈوانس ٹیکس نہ لگانے کی سفارش بھی شامل تھی۔اجلاس میں برآمد کنندگان کے لیے مالیاتی سہولتوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بینکاری نظام کو آسان بنانے اور ایکسپورٹ فنانسنگ کو پالیسی ریٹ سے 500 بیسز پوائنٹس کم پر فراہم کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ ان اصلاحات کا مقصد برآمد کنندگان پر مالیاتی دبائو کم کرنا اور بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی مسابقت کو بہتر بنانا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برآمدات میں اضافہ حکومت کی قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح ہدایات دی ہیں کہ برآمدات میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان اس وقت بلند شرح سود، مہنگی یوٹیلیٹیز اور بھاری ٹیکسز جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتکاروں کو مراعات اور پالیسی سہولیات فراہم کر کے انہیں عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل بنایا جا سکتا ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔








