اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قوم کو دشمن کے بیانیے کا مقابلہ کرنے اور اسے ناکام بنانے کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔وہ اتوار کو یہاں بلوچستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں 100 سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں،یہ شدت پسند پہاڑوں سے …
وزیراعلیٰ بلوچستان کا قوم سے مسلح افواج کا ساتھ دینے اور دشمن بیانیے کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قوم کو دشمن کے بیانیے کا مقابلہ کرنے اور اسے ناکام بنانے کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔وہ اتوار کو یہاں بلوچستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں 100 سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں،یہ شدت پسند پہاڑوں سے کارروائیاں کرتے رہے تھے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 900 واقعات پیش آئے جن میں بلوچستان میں 205 سیکورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 280 نہتے شہریوں ،جن میں مرد و خواتین شامل تھے ،کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی آپریشنز کے دوران گزشتہ ایک سال میں 760 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے متنبہ کیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک سنگین سکیورٹی چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک منظم، تربیت یافتہ اور پوری طرح تیار پاکستان آرمی کی موجودگی اور ایک مضبوط قوم کی حمایت کے باعث دشمن کی جیت کے امکانات صفر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اینٹی اسٹیٹ سیاسی بیانیے دشمن عناصر کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ 9 اور 10 مئی کو پاکستان آرمی اور قوم نے مل کر بھارت کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ پاکستان مسلح افواج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
سرفرازبگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کو روکنا اور ان کی لاجسٹک سپورٹ کاٹنا سب سے اہم مرحلہ ہے، افغانستان میں عدم استحکام دہشت گردوں کی لاجسٹکس کو آسان بناتا ہے۔ اس بیانیے کا مقابلہ کرنا سیاسی قیادت کی بنیادی قومی ذمہ داری ہے۔یہ صرف فوج کی جنگ نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق پر کھڑے ہونا مقبولیت کے دعوؤں سے زیادہ اہم ہےاور قوم کو اپنے دفاعی اداروں کا ساتھ دے کر دشمن کے بیانیے کو شکست دینا ہوگی۔








