ملتان۔ 19 اکتوبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسانوں کی سہولت اور دیہی معیشت کے فروغ کے لیے چیف منسٹر لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کا عمل جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق، اس پروگرام میں وہ کسان اہل ہوں گے جن کے پاس …
وزیراعلیٰ پنجاب کا دیہی معیشت کے فروغ کے لیے چیف منسٹر لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

مزید خبریں
ملتان۔ 19 اکتوبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسانوں کی سہولت اور دیہی معیشت کے فروغ کے لیے چیف منسٹر لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کا عمل جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق، اس پروگرام میں وہ کسان اہل ہوں گے جن کے پاس کم از کم پانچ سے دس نر کٹرے یا بچھڑے موجود ہوں۔
درخواست دینے کے لیے کسان کا محکمہ لائیو اسٹاک کے 9211 سسٹم پر رجسٹر ہونا لازمی ہے۔اپلائی کرنے کا طریقہ نہایت آسان ہے۔ امیدوار پی ایل سی لکھ کر، اسپیس دے کر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کریں اور 8070 پر ایس ایم ایس بھیجیں۔اس کارڈ کے ذریعے کسانوں کو ایک لاکھ 35 ہزار سے لے کر پانچ لاکھ 40 ہزار روپے تک بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا، جب کہ کارڈ ہولڈر 25 فیصد تک رقم کیش کی صورت میں بھی حاصل کر سکے گا۔ یہ سہولت 15 نومبر سے باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گی۔
کارڈ کے ذریعے رجسٹرڈ ڈیلرز سے ونڈا، مکسچرز، منرلز اور دیگر غذائی اشیاء بھی حاصل کی جا سکیں گی، جس سے مویشیوں کی صحت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک جلال پور پیر والا ڈاکٹر جمشید اختر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ کسان دوست اقدام لائیو اسٹاک کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کارڈ نہ صرف کسانوں کے مالی بوجھ میں کمی کرے گا بلکہ مویشیوں کی بہتر خوراک، علاج اور نگہداشت کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
ڈاکٹر جمشید اختر نے مزید کہا کہ لائیو اسٹاک پاکستان کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور حکومت پنجاب کے ایسے اقدامات سے دیہی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کو اس شعبے کی طرف راغب کیا جا سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ بہتر خوراک اور مالی معاونت سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے نہ صرف کسان خوشحال ہوں گے بلکہ ملک کی غذائی خود کفالت کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں گے۔








