سینئر تجزیہ کار اور پاک چین و افغانستان امور کے ماہر رشید صافی نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین غیر معمولی سٹریٹیجک، سفارتی، اقتصادی اور علاقائی اہمیت کا حامل ہے۔رشید صافی نے ہفتہ کو ’’اے پی پی‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے …
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین غیر معمولی سفارتی، اقتصادی اور علاقائی اہمیت کا حامل ہے ،سینئر تجزیہ کار رشید صافی کی اے پی پی سے خصوصی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):سینئر تجزیہ کار اور پاک چین و افغانستان امور کے ماہر رشید صافی نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ دورۂ چین غیر معمولی سٹریٹیجک، سفارتی، اقتصادی اور علاقائی اہمیت کا حامل ہے۔رشید صافی نے ہفتہ کو ’’اے پی پی‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں جبکہ دنیا نئی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں، معاشی دباؤ، علاقائی تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز کے دور سے گزر رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مستقبل کی شراکت داری کو نئی جہت دینے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزایر اعظم کا یہ دورہ محض رسمی سفارتکاری تک محدود نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، میڈیا، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون، زراعت اور علاقائی رابطہ کاری میں نئی پیش رفت حاصل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دورے کے پہلے مرحلے میں وزیرِ اعظم ہانگژو پہنچیں گے جہاں وہ ژجیانگ صوبے کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ ہانگژو اس وقت چین کی جدید ٹیکنالوجی، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے فروغ کیلئے منعقدہ بزنس فورم میں شرکت کریں گے جہاں مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ پاکستان اپنی معیشت کو ڈیجیٹلائزیشن، ای کامرس اور آئی ٹی ایکسپورٹس کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔رشید صافی نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت خصوصی توجہ صنعتی زونز، برآمدات، نوجوانوں کیلئے روزگار، زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور علاقائی تجارتی رابطوں پر دی جا رہی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ چینی صنعتوں کی منتقلی، مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے ذریعے ملکی معیشت کو نئی رفتار ملے جبکہ چین پاکستان کو خطے میں ایک اہم معاشی، تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دورہ میں عالمی اور علاقائی صورتحال بھی ایک اہم موضوع ہوگی۔ خاص طور پر امریکا۔ایران کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بحیرہ عرب، عالمی توانائی سپلائی، افغانستان اور خطے کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین دونوں خطے میں جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارتکاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے حامی ہیں اور دونوں ممالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ معاشی ترقی، رابطہ کاری اور اعتماد سازی ہی خطے کے عوام کیلئے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کی ترقی، نظم و ضبط اور سکیورٹی کا نظام آج دنیا کیلئے ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ چین کے مختلف شہروں میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی انتہائی محفوظ ماحول میں زندگی گزارتے ہیں۔ کئی شہروں میں لوگ مخصوص عوامی مقامات پر اپنا سامان چھوڑ کر اطمینان سے واپس آ جاتے ہیں جو ریاستی اعتماد، امن اور قانون کی مضبوطی کی واضح مثال ہے۔ رات گئے تک عوامی سرگرمیاں، خواتین اور خاندانوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور غیر ملکیوں کا محفوظ ماحول میں سفر چین کی کامیاب ریاستی پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی امن اور استحکام چین کی معاشی طاقت اور عالمی اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔رشید صافی نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین تعلقات کو دنیا “آل ویدر اسٹریٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کے طور پر جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 75 سالہ سفارتی تعلقات کی تقریبات اس بات کا اظہار ہیں کہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی مشترکہ ترقی، علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور ایک بہتر مربوط ایشیا کے وژن پر مل کر آگے بڑھتے رہیں گے








