وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے قائم کردہ پاکستان سٹیزن پورٹل سے ملک کے طول و ارض سے تعلق رکھنے والی عوام براہ راست مستفید ہورہی ہے

اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے قائم کیے گئے پاکستان سٹیزن پورٹل سے ملک کے طول و ارض سے تعلق رکھنے والی عوام براہ راست مستفید ہورہی ہے۔ اپنے قیام کے محض گیارہ ماہ میں شکایات کے ازالے کے حوالے سے پاکستان سٹیزن پورٹل ملک کا سب سے معروف ترین پلیٹ فارم بن چکا ہے جس پر ملک بھر کے …

اسلام آباد ۔ 11 اکتوبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے قائم کیے گئے پاکستان سٹیزن پورٹل سے ملک کے طول و ارض سے تعلق رکھنے والی عوام براہ راست مستفید ہورہی ہے۔ اپنے قیام کے محض گیارہ ماہ میں شکایات کے ازالے کے حوالے سے پاکستان سٹیزن پورٹل ملک کا سب سے معروف ترین پلیٹ فارم بن چکا ہے جس پر ملک بھر کے شہری اپنی شکایات اعلیٰ حکام تک پہنچا سکتے ہیں اور وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ان شکایات کا ازالہ ہو۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق تمام وزارتوں کی جانب سے پاکستان سٹیزن پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کے ازالے کی رپورٹ باقاعدگی سے وزیرِ اعظم کو مہیا کی جا رہی ہے۔ جس میں نہ صرف ازالہ شدہ شکایات کے حجم کی نشاندہی کی جاتی ہے بلکہ عوام کی جانب سے فراہم کردہ فیڈ بیک جس میں وہ اپنی شکایات کے ازالے کے حوالے سے آراء کا اظہار کرتے ہیں اس کے متعلق بھی مفصل رپورٹ وزیرِ اعظم آفس کوباقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر اب تک گیارہ لاکھ تہتر ہزار سے زائد شہری مندرج ہیں۔اب تک بارہ لاکھ تینتیس ہزارشکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 1057334شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے جو کہ 86فیصد بنتا ہے۔ ان میں وفاق کی سطح پر 92فیصد کا ازالہ کیا گیا، پنجاب میں 88فیصد کا ازالہ کیا گیا۔ خیبر پختونخواہ میں 87فیصد، بلوچستان میں 79فیصد جبکہ سندھ میں ازالے کی یہ شرح محض 40 فیصد رہی۔اسلام آباد کے رہائشی شہاب حیدر نے بتایا کہ اس کا سی ڈی اے کے ایک سیکٹر میں پانچ مرلے کا پلاٹ تھا۔ اس نے تقریبا ڈیڑھ سال پہلے اپنے پلاٹ کے قبضے کے لئے سی ڈی اے کو مطلوبہ لیٹر کے ل حصول کے لئے درخواست دی لیکن سی ڈی اے کے متعلقہ حکام کی جانب سے مطلوبہ پوزیشن لیٹر کا اجراء نہیں کیا جا رہا تھا۔ شہاب حیدر نے بتایا کہ مطلوبہ دستاویز کے لئے سی ڈی اے کے بے شمار چکر لگائے۔ بالآ خر اس نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر رابطہ کیا جہاں اسے مکمل معاونت فراہم کی گئی اورپاکستان سٹیزن پورٹل کی کوشش کے نتیجے میں اس کو اپنے پلاٹ کی مطلوبہ دستاویز مل چکی ہیں۔ شہریوں کی جانب سے موصول شدہ شکایات کا جائزہ لیا جائے تو دو لاکھ چھپن ہزار سے زائد شکایات میونسپل سروسز سے تعلق موصول ہوئیں جن میں 35%صفائی اور 13%سڑکوں کی مرمت سے متعلق تھیں۔ دو لاکھ دس ہزار سے زائد شکایات توانائی اور بجلی سے متعلق تھیں جن میں سے 62%بجلی جبکہ 38%گیس سے متعلقہ تھیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد شکایات تعلیم، اکتہر ہزار محکمہ صحت، ستر ہزار سے زائد امن و امان، تقریبا ساڑھے سینتالیس ہزارلینڈ ریونیو سے متعلق تھیں۔ انفرادی سطح پر لو گ اپنے اپنے مختلف مسائل کے لئے بھی پاکستان سٹیزن پورٹل سے بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی محترمہ ش ط نے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی پانچ ماہ کے بعد بازیاب ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تھانے کے اہلکاروں کی جانب سے نہ صرف ان کو اور انکے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا تھا بلکہ ان سے رشوت بھی وصول کی گئی لیکن اس کے باوجود انکی بیٹی کو بازیاب نہیں کرایا جا رہا تھا۔ جب اس کی شکایت پاکستان سٹیزن پورٹل پر کی گئی تو وزیرِ اعظم کی ٹیم نے اس مظلوم عورت کا بھرپور ساتھ دیا اور بالآخر اس کی بیٹی کو بازیاب کرا لیا گیا۔